شوپیان جھڑپ میں جاں بحق جیش کمانڈر شاہ جہاں میر

سال 2017سے سرگرم تھا ، پولیس کو کئی کیسوں میں انتہائی مطلوب تھا

0 108

سرینگر: شوپیان جھڑپ جاں بحق جیش کمانڈر شاہ جہاں میر عرف عمر خطاب ستمبر 2017سے سرگرم تھا جبکہ فورسز کو انتہائی مطلوب تھا ۔ سی این آئی کے مطابق شوپیان کے گاہند گائوںمیں فورسز اور جنگجوئوں کے مابین مختصر شوٹ آوٹ میں اعلیٰ جیش کمانڈر سمیت دو مقامی جنگجو جاں بحق ہو گئے ۔ جیش کمانڈر کی شناخت شاہ جہاں میر عرف عمر خطاب ولد عبد الحمید میر ساکنہ امشی پورہ شوپیان کے بطو ر ہوئی ، شاہ جہاں کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ ماہ اگست 2017میں گھر سے لاپتہ ہونے کے بعد انہوں نے عسکری صفوں میں شمولیت اختیا ر کی اور 02ستمبر 2017کو سوشل میڈیا پر ان کی بندوق کے ساتھ ایک تصویر وائرل ہوئی ۔ شاہ جہاں کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ قریب دو سال تک سرگرم رہے جبکہ فورسز کو کئی کیسوں میں انتہائی مطلوب تھا ۔ شاہ جہاں گزشتہ سال ماہ اگست میں اس وقت مشہور ہوئے جب فورسز نے رات کی تاریکی میں ان کے گھر کو نذر آتش کرنے کی کوشش کی ۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق شاہ جہاں فورسز و پولیس کو کئی کیسوں میں انتہائی مطلوب تھا جبکہ گزشتہ ماہ شوپیان میں ایس پی او خاتون خوشبو جان کی ہلاکت میں بھی شاہ جہاں کا ہی ہاتھ تھا ۔ پولیس کے مطابق اس کے علاوہ شاہ جہاں کئی کیسوں میں بھی پولیس کو مطلوب تھا اور اس کے خلاف مختلف پولیس اسٹیشنوں میں کیس درج تھے ۔ ( سی این آئی )

تبصرے
Loading...