سگریٹ نوشی کے خلاف حکومتی اقدامات محض نمائشی ثابت ،اسپتالوں عدالتوں ،اسکولوں ،پبلک پارکوں کے قریب کھلے عام سگریٹ نوشی کا رحجان تیز

0 115

سرینگر: وادی کشمیر میں سگریٹ نوشی اور تمباکو نوشی کا رجحان دن بہ دن زور پکڑتا جا رہا ہے جس کے باعث لوگوں میں تشویش کی لہر پائی جاتی ہے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق عوامی جگہوں پر سگریٹ اور تمباکو نو شی پر عائد پا بندی کو یقینی بنانے کے سلسلے میں اگرچہ حکومت کی طرف سے معمولی نوعیت کے اقدامات کئے گئے ہیں اور ہسپتالوں اور عوامی جگہوں پر سگریٹ نوشی کی پاداش میں چند لاکھ روپے جرمانہ بھی وصول کیا گیا ہے لیکن حکومت کی طرف سے کئے گئے یہ اقدامات محض نمائشی نوعیت کے ہیں اور ان کی بدولت سگریٹ نوشی کی وبا کو ختم کرنے میں کوئی مدد نہیں مل سکتی ہے ۔ سگریٹ نوشی کے خلاف مہم اسی صورت میں کامیاب ہو سکتی ہے جب سماج کے ہر طبقے کو یہ احساس ہو جائے گا کہ اس بدعت کو معاشرے سے ختم کرنا ہے اور ہر فرد بشر کو اس سلسلے میں اپنا کلیدی رول نبھانا ہے ۔سی این آئی کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے متعد شہریوں نے اپنے خیا لات کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔کہ سگریٹ نوشی کے مضر اثرات سے نو نہال پود کے ساتھ ساتھ بڑے بزرگوں کو یہ بات زۃن نشین کرانا ہوگی کہ سگریٹ اور تمباکو نوشی کس قدر انسانی صحت کے لئے ضرر رساں ہیں ۔فی الوقت وادی میں متعدد این جی اُوز سگریٹ نوشی کے خلاف محاز کھولے بیٹھی ہے جوجموں و کشمیر کے لوگوں کو صحت کے حقیقی معنیٰ سے روشناس کرانے کے ساتھ ساتھ اب دوردراز جنگلی اور پہاڑی علاقوں میں مہم چلانے کیلئے اقدامات اٹھا رہی ہے اگرچہ اس سلسلے میں جموں و کشمیر والنٹری ہیلتھ ایسو سی ایشن سرینگر جہاں ایک طرف جموںو کشمیر کے لوگوں کو سیگریٹ اور تمباکو نو شی کے مضر اثرات کے متعلق جانکاری فراہم کر رہا ہے۔ اسکولوں کالجوں شہر گائوں گائوں جا کر سیگریٹ تمباکو نوشی و یگر سماجی برائیوں سے بچنے کیلئے جانکاری فراہم کر رہا ہے وہیں اب اس ادارے نے وادی کے دوردراز علاقوں پہاڑی اور جنگلی گوجری علاقوں میں بڑے پیمانے پر مہم چلانے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ اس سلسلے میں آئی اے ایس آفیسر ریٹائرڈ علی محمد میر نے نمائندے کیساتھ گفتگو میں کہا کہ ایسو سی ایشن نے دوردرا ز علاقوں میں بڑے پیمانے پر مہم چلانے کا منصوبہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں سیگریٹ تمباکو نوشی کا مکمل خاتمہ ہو ۔نئی نسل کو سیگریٹ تمباکو نو شی اور منشیات سے جانکاری دلانے کے سلسلے میں دوردراز علاقوں میں مہم چلانے کی وقت کے اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ وادی کے اسپتالوں، اسکولوں عوامی جگہوں پر سیگریٹ اور تمباکو نو شی پر عائد پا بندی کو یقینی بنانے کے سلسلے میں سماج کے ہر طبقے کو اپنا رول نبھانا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ میرا خواب ہے کہ میں جموںو کشمیر کو سیگریٹ تمباکو نو شی سے پاک دیکھوں۔ ان کا کہنا تھا کہ تعلیم یافتہ نوجوان الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا سماج کو اس بدعات سے نجات دلانے کے لئے کلیدی رول ادا کر سکتے ہیں۔

تبصرے
Loading...