سناسر باغ گل لالہ میں سیاحوں کی کمی کی وجہ خستہ حال سڑک

0 74

جموں: جموں و کشمیر کے ضلع رام بن کے سناسر میں واقع باغ گل لالہ اگرچہ اپنے جوبن پر ہے لیکن باغ کو جوڑنے والی سڑک کی خستہ حالی سیاحوں کو اس کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہونے میں رکاوٹ حائل ہے۔

سناسر علاقے میں برف پوش پہاڑیوں کے دامن میں واقع باغ گل لالہ کو ماہ رواں کی 16 تاریخ کو سیاحوں کے لئے کھول دیا گیا تھا لیکن اس کو جوڑنے والی سڑک کی خستہ حالی کی وجہ سے سیاح بشمول مقامی لوگ اس کے دلپزیر نظاروں سے لطف اندوذ نہیں ہوپا رہے ہیں۔

پٹنی ٹاپ سے نتھا ٹاپ تک سڑک کی حالت بہتر ہے لیکن اس کے بعد سڑک کی حالت اس قدر ناگفتہ بہہ ہے کہ سیاح باغ گل لالہ کی سیر کرنے کے پروگرام کو ترک کرنے پرمجبور ہوجاتے ہیں۔

سیما سکسینہ نامی ایک سیاح نے یو این آئی کو بتایا کہ پٹنی ٹاپ کے ایک مقامی ہوٹل میں ہم نے نتھا ٹاپ کے بعد سناسرجانے کا منصوبہ بنایا لیکن سڑک کی خستہ حالت دیکھ کر ہم نے ارادہ ہی بدل دیا۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا گروپ اب نتھا ٹاپ سے ہی واپس پٹنی ٹاپ لوٹے گا کیونکہ ہمیں شام تک جموں پہنچنا ہے تاکہ ہم دلی کے لئے ریل پکڑ سکیں۔

جموں کے رہنے والے ہرش نامی ایک سیاح نے سڑک کی خستہ حالی پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا ‘ہمیں معلوم ہوا کہ سناسر میں واقع باغ گل لالہ کھول دیا گیا تو ہم نے ہفتے کو اس کے خوبصورت نظاروں سے لطف اندوز ہونے کا پلان بنایا’۔

انہوں نے کہا کہ ہم وہاں پہنچے لیکن یہ دیکھ کر افسوس ہوا کہ حکومت سیاحت کو فروغ دینا چاہتی ہے لیکن وہاں سڑک کی حالت بہت خراب ہے۔

انہوں نے کہا کہ سڑک رابطوں کے تعمیر کے بغیر سیاحت کے فروغ کی باتیں کرنا بے معنی ہے۔

ہرش نے کہا کہ سیاحت کو فروغ دینے کے لئے سیاحوں کے لئے بنیادی سہولیات کا بندوبست کرنا لازمی ہے۔

ایک سیاح نے بتایا کہ رپورٹوں کے مطابق جموں سیاحوں کے لئے باعث کشش سیاحتی مقام کے بطور ابھر رہا ہے اور سال گذشتہ ایک کروڑ چھ لاکھ سیاح جموں کے نظاروں سے لطف اندوز ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ سیاحوں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوسکتا ہے لیکن شرط یہ ہے کہ حکومت سیاحوں کی سہولیات کے لئے تمام تر انتظامات کو عملی جامہ پہنا کر سیاحت کو فروغ دینے کے لئے سنجیدہ ہوجائے۔

دریں اثنا محکمہ سیاحت کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ سڑک کی خستہ حالی کا معاملہ متعلقہ محکمہ کے ساتھ اٹھا گیا ہے اس سڑک کی تعمیر کے لئے کروڑوں روپئے بھی منظور کئے گئے ہیں۔

ادھر محکمہ پھولبانی کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ گل لالہ کے شگوفوں کی حیات بہت مختصر ہوتی ہے اور ماہ مئی کے وسط تک ہی یہ شگوفے مرجھا جاتے ہیں۔

یو این آئی

تبصرے
Loading...