سرینگر مظفر آباد بس سروس 112روز بھی بحال نہ ہو سکی ، تجارت بھی ہنوز معطل

تجارت سے منسلک ہزاروں افراد بے روزگاری کا شکار، ٹریول اینڈ ٹریڈ سینٹروں پرخوشیاں مانند پڑ گئیں

0 38

سرینگر: 112روز گزرنے کے بعد سرینگر مظفرآباد بس سروس اور102روز گزرنے کے بعد بھی انٹرا کشمیر ٹرک سروس کو بحال نہ ہونے سے آرپار اپنے پیاروں کے ہاں آنے جانے والوں کی خوشیاں مانند پڑ گئیں جبکہ تجارت سے منسلک ہزاروں افراد بے روزگاری کا شکارمنقسم کشمیر کے دونوں اطراف کے ٹریول اینڈ ٹریڈ سینٹروں پر مسلسل ویرانیوں کے بادل چھائے رہیں ہے ۔ سی این آئی کو ملی تفصیلات کے مطابق پیر کے روز بھارت کی جانب سے معطل کی گئی سرینگر مظفرآباد بس سروس کو 112اور ٹرک سروس کی معطلی کو102دن مکمل ہو گئے درجنوں مسافروں کے ٹرپل انٹری فارم کی بھارت کی جانب سے بس سروس کی مسلسل معطلی کے باعث معیاد ختم ہو گئی۔ یاد رہے کہ رواں سال 25 فروری کے روز آخری بار سرینگر مظفرآباد بس سروس اور 8مارچ کو ٹرک سروس نے لائن آف کنٹرول کو چکوٹھی اوڑی امن برج سے کراس کیا تھا112روز سے سرینگر مظفرآباد بس اور102روز سے مسلسل ٹرک سروس کی معطلی سے آر پار سفر کے خواہشمند مسافروں اور ایل او سی تاجروں کی تشویش میں دن بدن اضافہ ہو تا جا رہاہے ۔جموں و کشمیر جائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے 112روز سے سرینگر مظفرآباد بس سروس اور 102روز سے ٹرک سروس کی مسلسل معطلی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر سرینگر مظفرآباد بس اور ٹرک سروس کو بحال کیا جائے تانکہ آر پار سفر کے خواہشمند مسافروں اور تاجروں کی پریشانیاں کم ہوں۔ انھوں نے مزید کہا کہ پاک بھارت وزرائے اعظم سرینگر مظفرآباد بس اور ٹرک سروس کی بحالی کے لیے اپنا کردار ادا کر نا چاہیے تانکہ منقسم کشمیر کے عوام میں پائی جانے والی تشویش کا خاتمہ ممکن ہوْ۔یاد رہے کہ 102روز سے سرینگر مظفرآباد ٹرک سروس کی معطلی سے منقسم کشمیر کے ہزاروں افراد بے روزگار ہونے کے علاوہ آر پار تاجروںکے اربوں روپے پھنس چکے ہیں لیکن نئی دہلی حکومت نے تاحال نہ تو ٹرک سروس کو بحال کیا اور نہ ہی بس سروس بحال کی جارہی ہے

تبصرے
Loading...