سرینگر مظفرآباد بس سروس 133ویں روز بھی بحال نہ ہو سکی

مسافروں کو تاجروں کو مشکلات ، وزیر اعظم ہند اور وزیر اعظم پاکستان سے مداخلت کی اپیل

0 15

سرینگر: سرینگر مظفرآباد بس سروس 133ویں روز بھی معطل رہی پیر کے روز پاکستانی زیر انتظام کشمیر سے سرینگر آنے والے 23مسافر مایوسی اور پریشانی کا شکار جبکہ تجارت معطلی سے ہزاروں افراد بے روزگار تاجروں کے اربوں روپے آر پار پھنس گئے۔سی این آئی کو ملی تفصیلات کے مطابق پیر کے روز مظفرآباد سے تعلق رکھنے والے 23مسافروں نے سرینگر آنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا پاکستانی کشمیر کی ٹریڈ اینڈ ٹریول اتھارٹی نے ای میل کے زریعے اسکی اطلاع سرینگر پاسپورٹ آفس کو دی لیکن بھارتی حکام نے 133روز بعد بھی سرینگر مظفرآباد بس بحال کر نے سے انکار کر دیاتھا جسکے باعث پیر کے روز سرینگر آنے و الے مسافر مایوس ہو گئے سرینگر مظفرآباد بس سروس کے ساتھ ساتھ بھارتی حکام نے 123روز سے انٹرا کشمیر تجارت کو بھی معطل کر رکھا ہے ،تجارت سے منسلک ہزاروں افراد بے روزگاری کا شکار ہیںمنقسم کشمیر کے دونوں اطراف کے تاجروں کے اربوں روپے بھی آر پار پھنس چکے ہیں سرینگر مظفرآباد بس سروس کے زریعے سفر کر نے والے سینکڑوں مسافروں کے ٹرپل انٹری فارم کی بھارت کی جانب سے بس سروس کی مسلسل معطلی کے باعث معیاد ختم ہو گئی یاد رہے کہ پچیس فروری کے روز آخری بار سرینگر مظفرآباد بس سروس اور آٹھ مارچ کو ٹرک سروس نے لائن آف کنٹرول کو چکوٹھی اوڑی امن برج سے کراس کیا تھاسرینگر مظفرآباد بس اور ٹرک سروس کی معطلی سے آر پار سفر کے خواہشمند مسافروں اور ایل او سی تاجروں کی تشویش میں دن بدن اضافہ ہو تا جا رہاہے ایل او سی تاجروں کا کہنا ہے کہ فوری طور پر سرینگر مظفرآباد بس اور ٹرک سروس کو بحال کیا جائے تانکہ آر پار سفر کے خواہشمند مسافروں اور تاجروں کی پریشانیاں کم ہوں اس حوالہ سے وزیراعظم پاکستان عمران خان اور بھارتی وزیراعظم نریندر ا مودی اپنا کردار ادا کر نا چاہیے ْ۔

تبصرے
Loading...