سرینگر جموں شاہراہ پر چارگلیاروں والی ٹنل کا کام گذشتہ 9ماہ سے ٹھپ

فنڈس کی عدم دستیابی کے سبب کام رُکا ہوا ہے ۔ کام دوبارہ شروع کرنے کا لوگوں کا مطالبہ

سرینگر: سرینگر جموں شاہراہ پر چار گلیاروں والی ٹینل کی تکمیل میں چار سال کا اضافہ ہونے کے باوجود ٹنل ہنوز نامکمل ہے جبکہ ٹنل کی تعمیر کیلئے درکار فنڈس کی عدم دستیابی کی وجہ سے گذشتہ ٩ماہ سے کام رکا پڑا ہے اور ہزاروں مقامی مزدوروں کے علاوہ عمارتی کمپنیوں کے ملازمین بھی اُجرتوں نے محروم ہوگئے ہیں ۔ ادھر ٹنل کا کام مکمل نہ ہونے کی وجہ سے جواہر ٹنل پر ٹریفک کا دبائو برابر جاری ہے اور آئے روز شاہراہ بند رہتی ہے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق سرینگر جمو ں شاہراہ پر چارچار گلیاروں والی ٹینل کا کام تکمیل تک پہنچنے کیلئے جو حتمی تاریخ تھی اس کے بھی چار برس گذر گئے ہیں تاہم ٹنل کا کام ابھی تک مکمل نہیںہوا ہے جبکہ اس ٹینل پر گذشتہ نو ماہ سے کام رکا پڑا ہے ۔ ذرائع کے مطابق جواہر ٹینل پر ٹریفک کے دبائو میں کمی کیلئے شاہراہ پر فور وے ٹینل کی تعمیر کا کام شروع کیا گیا اور اس ٹنل سے تین کلو میٹر کا سفر کم ہوتا ۔ 2007میں ٹنل کی تعمیر کا کام دو بیرون ریاست کی کمپنیوںنے شروع کیا تھاجن میں نو یوگ ، رامکی نامی کمپنیاںشامل ہیں اور اس کو 2015تک مکمل کرنے کی آخری تاریخ مقرر کی گئی ۔ جس کیلئے براہ راست رقومات مرکزی سرکار کی جانب سے فراہم ہونی مطلوب تھی تاہم 2018بھی گذر گیا اور اب 2019بھی جاری ہے لیکن ٹنل کا کام مکمل نہیں ہوسکا ۔ذرائع کے مطابق ٹنل کا کام گذشتہ نو ماہ سے ٹھپ پڑا ہے ۔ ٹنل کی تعمیرمیں تین ہزار سے زائد مقامی مزدور بھی کام کررہے تھے وہ بھی نو ماہ سے بے کار ہوگئے ہیں ۔ جبکہ کمپنی میں کام کرنے والے دیگر سینکڑوں ملازمین بھی تنخواہوں سے محروم ہیں ۔ ذرائع نے بتایا کہ مرکزی سرکار کی جانب سے گذشتہ نو ماہ سے فنڈس واگذار نہیں ہورہی ہیں جس کی وجہ سے کام رُکا پڑا ہے ۔ اس ضمن میں لوگوں کا مطالبہ ہے کہ کام جلد شروع کیا جائے ۔ مقامی لوگوںنے کہا کہ اگر مذکورہ ٹنل جلد تعمیر ہوکر ٹریفک کیلئے کھول دی جائیگی تو اس سے جواہر ٹنل پر ٹریفک کا دبائو کافی کم ہوجائے گا۔ جبکہ ٹنل بار بار بند ہونے سے جو لوگوں کو مشکلات درپیش آرہی ہے اس سے بھی نجات ملے گا۔

تبصرے
Loading...