سرکاری ہسپتالوں میں غریب مریضوں سے بھاری فیس وصول ہوتا ہے ، ڈاکٹر نثاالحسن کی تشویش

ٹسٹوں پر بھاری رقومات خرچ کرنے کی طاقت نہ رکھنے والے بغیر علاج ہی ہسپتال چھوڑدیتے ہیں

0 20

سرینگر/11جون /سی این آئی سرکاری ہسپتالوں میں غریب مریضوں کو سہولیات فراہم کرنے کے عوض رقومات حاصل کرنے پر ڈاکٹرس ایسو سی ایشن کشمیر نے سخت برہمی کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر سرکاری ہسپتالوں میں بھی مریضوں کو علاج ومعالجہ کیلئے فیس اداکرنے پڑے گا تو پھر سرکاری ہسپتالوں اور پرائیویٹ ہسپتالوںمیں کیا فرق رہے گا۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کشمیر کے پریذیڈنٹ ڈاکٹر نثارلحسن نے کہا ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کو مفت ادویات اور دیگر طبی سہولیات فراہم کرنے کی پابند ہے تاہم کشمیر وادی میں قائم سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں سے مختلف ٹیسٹوں کے لئے بھاری رقومات وصول کیا جاتی ہے جس کے نتیجے میںاکثر غریب مریض بغیر علاج ہی ہسپتالوں سے چھوڑ کر جاتے ہیں جبکہ انہیں امید ہوتی ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں انہیں مفت علاج مع ادویات اور ٹیسٹ حاصل ہوگا۔ڈاک پریذیڈنٹ نے کہا کہ یہ ہمارے لئے بہت تکلیف دہ ہوتا ہے جب ہم کسی غریب مریض کو صرف اس لئے بغیر علاج کے ہسپتال سے جاتے ہوئے دیکھتے ہیں کیوں کہ وہ ٹیسٹوں پر رقومات خرچ کرنے کی صورت میں نہیں ہوتے۔انہوں نے کہا کہ سرکاری ہسپتالوں میں جدید ترین مشنیر اور بہتر معالجین کی خدمات مئیسر ہوتی ہے اس کے باوجود بھی غریب مریض ان سے مستفید نہیں ہوتے ۔ انہوں نے کہا کہ وادی کشمیر کے سرکاری ہسپتالوں اور پرائیویٹ ہسپتالوں میں کوئی فرق نہیں رہتا جب ان ہسپتالوں میں مریضوں سے بھاری فیس وصول کی جاتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دل کے مرض میں مبتلاء مریضوں کو پیسنگ کیلئے120,000روپے اداکرنے پڑتے ہیں جبکہ 70,000انگیوپلاسٹی اور ریڈیوفریکنسی ابلیشن کیلئے 30,000روپے اداکرنے پڑرہے ہیں ۔ ڈاکٹر نثار الحسن نے کہاکہ ہسپتالوں میں غریب مریضوں کو سی ٹی سکین کیلئے 3700روپے اور سی ٹی اینجیوگرافی کیلئے 4200روپے اداکرنے پڑرہے ہیں اس کے علاوہ ایم آر آئی کیلئے 3700روپے جبکہ لیزر آئی سرجری کیلئے یعنی آنکھوں کی لیزر سرجری کیلئے 10,000روپے اداکرنا ہوتے ہیں ۔ اس کے علاوہ سی بی سی، کے ایف ٹی، ایل ایف ٹی ، لپڈ پروفائل ، تھائرائڈ فنکشن اور دیگر چھوٹے بڑے ٹیسٹوں کیلئے بھی مریضوں کو فیس اداکرنی پڑتی ہے ۔جبکہ سرکار ہمیشہ یہ اعلانات کرتی رہتی ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کو مفت علاج و معالجہ فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ المیہ کی بات یہ ہے کہ اگر کسی شخص کو دل کا دورہ پڑتا ہے تو مریض کو علاج کیلئے ابتدائی طور پر ہی 30,000روپے اداکرنے پڑتے ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ اس طرح غریب مریضوں کو سرکاری ہسپتالوں میں بھی علاوج و معالجہ کیلئے فیس اداکرنی پڑی ہے جو غریب مریضوں کیلئے ناانصافی ہے اسلئے سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کو ادویات کے ساتھ ساتھ ٹیسٹ بھی مفت ہونے چاہئے ۔

تبصرے
Loading...