سالانہ امرتاتھ یاترا کے پر امن انعقاد کیلئے تمام تر سیکورٹی انتظامات کئے جائیں گے

وادی کشمیر میں امن کی صورتحال بگاڑنے کی اجازت نہیں دی جائیگی ،فورسز ہر وقت متحرک اور چوکس / راجناتھ سنگھ

0 34

سرینگر/// لائن آف کنٹرول پر دراندازی کے بڑھتے واقعات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے مرکزی وزیر دفاع نے واضح کیا کہ سیکورٹی فورسز جنگجوؤں کے منصوبوں کو ناکام بنانے کیلئے پوری طرح تیار ہیں ۔اسی دوران انہوں نے کہا کہ یکم جولائی سے شروع ہونی والی امرناتھ یاترا کے پر امن انعقاد کیلئے تمام تر سیکورٹی انتظامات کئے جائیں گے اور اس کیلئے ریاست کو مناسب تعداد میں سیکورٹی فورسز فراہم کی جائے گی ۔سی این آئی مانیٹرنگ کے مطابق دہلی حال ہی میں نو منتخب ہو ئے مرکزی وزیر دفاع راجنا تھ سنگھ نے لائن آف کنٹرول پر راندازی کے واقعات میں اضافہ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دراندازی کا مقصد یہ ہے کہ وادی کشمیر میں امن وامان کی صورتحال کو درہم برہم کیا جائے لیکن سیکورٹی فورسز حالات کو بنائے رکھنے کیلئے پوری طرح تیار ہیں ۔انہوں نے کہا کہ حالیہ واقعات کے تناظر میں ریاست جموں وکشمیر میں چوکسی برتی جارہی ہے اور سیکورٹی ایجنسیوں سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ ہر وقت متحرک اور چوکس رہیں جبکہ جنگجوؤں کے منصوبوں کو ناکام بنانے کیلئے بھی سیکورٹی ایجنسیاں پوری طرح الرٹ پر ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اب جبکہ وادی کشمیر امن کی صورتحال قائم ہورہی ہے لیکن سرحد پار کے عناصر سے خوش نہیں ہیں اور وہ لگاتار اس کو شش میں ہیں کہ حالات خراب کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ دراندازوں کو بھارتی علاقے میں داخل کرنے کیلئے سرحد پار سے ہی ہر طرح کی مدد مل رہی ہے ۔راجناتھ نے واضح کیا کہ سرحد پار عناصر کے ساتھ ساتھ وادی کشمیر میں سرگرم جنگجوؤں کو حالات خراب کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائیگی۔ ماہ جولائی سے شروع ہونے والی امرناتھ یاترا کے بارے میں سنگھ نے کہا کہ یاترا میں رخنہ ڈالنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی ۔انہوں نے کہا کہ پرامن یاترا کیلئے تمام تر حفاظتی انتظامات کئے جائیں گے اور اس کیلئے کشمیر میں معقول تعداد میں اضافی سیکورٹی فورسز تعینات کی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ یاترا اور یاتریوں کی حفاظت کیلئے ہر ممکن اقدامات کئے جائیں گے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو روکنے کیلئے مناسب اقدامات کئے جائیں گے۔سنگھ نے کہا کہ کشمیر کے ساتھ ساتھ شمالی مشرقی ریاستوں میں جنگجویانہ سرگرمیوں کے بڑھتے واقعات پر مرکزی حکومت سنجیدگی کے ساتھ قریبی نظر رکھی ہوئی ہے۔

تبصرے
Loading...