رمضان میں ووٹنگ کو لے کر مچا گھمسان، جانیے اس مہینے کس کس سیٹ پر ہوگی پولنگ

انتخابی کمیشن کے ذریعہ لوک سبھا انتخابات کی تاریخوں کا اعلان ہو جانے کے بعد ہر جگہ ہلچل دیکھنے کو مل رہی ہے۔ اس درمیان کئی اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈران نے رمضان کے مہینے میں ووٹنگ کرائے جانے پر سوال اٹھایا ہے۔ کولکاتا کے میئر اور ترنمول کانگریس لیڈر فرہاد حکیم نے بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اقلیتی طبقہ کو ووٹنگ سے دور رکھنا چاہتی ہے اسی لیے رمضان کے دوران روزہ کا خیال نہیں رکھا گیا۔ فرہاد حکیم نے مزید کہا کہ ”انتخابی کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے اور ہم اس کی عزت کرتے ہیں۔ ہم ان کے خلاف کچھ نہیں بولنا چاہتے۔ لیکن 7 مراحل میں انتخابات بہار، اتر پردیش اور مغربی بنگال کے لوگوں کے لیے مشکل ہوگا۔ یہ ان لوگوں کے لیے سب سے زیادہ مشکل ہوگا جن کا اس وقت رمضان چل رہا ہوگا۔”

View image on Twitter

ANI

@ANI

Firhad Hakim, Kolkata Mayor & TMC leader: EC is a constitutional body&we respect them. We don’t want to say anything against them. But 7-phase election will be tough for people in Bihar, UP&WB. It’ll be most difficult for those who will be observing ramzan at that time. (10.03)

فرہاد حکیم نے میڈیا کو بتایا کہ ”ان تین ریاستوں میں اقلیتی آبادی کافی زیادہ ہے۔ وہ روزہ رکھ کر ووٹ ڈالیں گے۔ انتخابی کمیشن کو اس بات کو اپنے دماغ میں رکھنا چاہیے۔ بی جے پی چاہتی ہے کہ اقلیتی طبقہ اپنا ووٹ نہ ڈالیں۔ لیکن ہم اس سے متفکر نہیں ہیں۔ لوگ ‘بی جے پی ہٹاؤ-دیش بچاؤ’ کا نعرہ بلند کر رہے ہیں اور اس کے لیے پرعزم ہیں۔”

ANI

@ANI

Firhad Hakim, Kolkata Mayor&TMC leader: Minority population in these 3 states is quite high. They’ll cast votes by observing ‘roza’. EC should’ve kept this in mind. BJP wants minorities to not cast their votes.But we aren’t worried. People are committed to ‘BJP hatao-desh bachao’

ANI

@ANI

Firhad Hakim, Kolkata Mayor & TMC leader: EC is a constitutional body&we respect them. We don’t want to say anything against them. But 7-phase election will be tough for people in Bihar, UP&WB. It’ll be most difficult for those who will be observing ramzan at that time. (10.03)

View image on Twitter

اس سے قبل دہلی کے اوکھلا اسمبلی سیٹ سے رکن اسمبلی امانت اللہ خان بھی رمضان کے دوران ووٹنگ پر سوال اٹھا چکے ہیں۔ انھوں نے بی جے پی حکومت پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ 12 مئی کو دہلی میں ووٹنگ ہونی ہے اور اس دن رمضان ہوگا۔ رمضان کی وجہ سے مسلمان ووٹ کم کرے گا اور اس کا فائدہ بی جے پی کو ہوگا۔”

غور طلب ہے کہ بہار میں 17 فیصد ، یو پی میں 20 فیصد اور مغربی بنگال میں 27 فیصد مسلم آبادی ہے اور پانچویں، چھٹے اور ساتویں مرحلے کی پولنگ رمضان میں ہی ہونی ہے۔ بہار، اتر پردیش اور مغربی بنگال تینوں ہی ریاستوں میں آخر کے تینوں مرحلے میں بھی پولنگ ہونی ہے، یعنی مسلم طبقات کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

  • آئیے جانتے ہیں کہ رمضان کے دوران کہاں کہاں ہوں گے انتخابات…

اتر پردیش میں کل لوک سبھا سیٹوں کی تعداد 80 اور ان میں سے 41 سیٹوں پر رمضان کے دوران ووٹنگ ہوگی۔ اس سے ظاہر ہے کہ نصف سے زیادہ سیٹوں پر رمضان میں ووٹنگ ہونے کی وجہ سے مسلمانوں کو پریشانیاں اٹھانی پڑیں گی۔ تفصیلات اس طرح ہیں:

  • 6 مئی: دھورہرا، سیتا پور، موہن لال گنج، لکھنؤ، رائے بریلی، امیٹھی، باندا، فتح پور، کوشامبی، بارہ بنکی، فیض آباد، بہرائچ، قیصر گنج اور گونڈا۔
  • 12 مئی: سلطان پور، پرتاپ گڑھ، پھول پور، الٰہ آباد، امبیڈکر نگر، شراوستی، ڈمریا گنج، بستی، سنت کبیر نگر، اعظم گڑھ، جونپور، مچھلی شہر اور بھدوہی۔
  • 19 مئی: مہاراج گنج، گورکھپور، کشی نگر، دیوریا، بانس گاؤں، گھوسی، سلیم پور، بلیا، غازی پور، چندولی، وارانسی، مرزا پور اور رابرٹس گنج۔

بہار کی بات کریں تو یہاں کل 40 لوک سبھا سیٹ ہے اور یہاں رمضان میں 21 سیٹوں کے لیے ووٹنگ ہوگی۔ گویا کہ یہاں بھی نصف سے زیادہ سیٹوں پر ووٹنگ کے لیے رمضان مہینے کا انتخاب کیا گیا ہے۔ تفصیلات اس طرح ہیں:

  • 6 مئی: سیتا مڑھی، مدھوبنی، مظفر پور، سارن اور حاجی پور۔
  • 12 مئی: والمیکی نگر، مغربی چمپارن، مشرقی چمپارن، شیوہر، ویشالی، گوپال گنج، سیوان اور مہاراج گنج سیٹوں پر ووٹنگ ہوگی۔
  • 19 مئی: پٹنہ صاحب، نالندہ، پاٹلی پترا، آرہ، بکسر، سہسرام، جہان آباد اور کاراکاٹ میں ووٹنگ ہوگی۔

مغربی بنگال کی حالت بھی یو پی اور بہار کی طرح ہی ہے۔ یہاں لوک سبھا کی 42 سیٹیں ہیں جن میں سے 24 سیٹوں پر ووٹنگ رمضان میں ہی ہوگی۔ تفصیلات اس طرح ہیں:

  • 6 مئی: بنگاؤں، براک پور، ہوڑہ، اولوبیریا، شری رام پور، ہگلی، آرام باغ۔
  • 12 مئی: تاملک، کانٹھی، گھٹال، جھارگرام، میدنی پور، پرولیا، بانکورا، بشنو پور۔
  • 19 مئی: دمدم، باراسات، بشیر ہاٹ، جے نگر، متھرا پور، ڈائمنڈ ہاربر، جادو پور، کولکاتا (جنوب)، کولکاتا (شمال)۔

دہلی کی سبھی سات سیٹوں پر 12 مئی کو ہی ووٹنگ ہونی ہے۔ گویا کہ دہلی میں سبھی سیٹوں پر ووٹنگ کے لیے رمضان کا مہینہ منتخب کیا گیا ہے اور یہاں کے مسلمانوں کو بھی پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

تبصرے
Loading...