رمضان المبارک رحمتوں کا مہینہ ہے اس کی پوری قدر کیجئے

از: محمد رحمت اللہ میر قاسمی

0 95

۱۔ گناہوں سے توبہ کر کے نئی زندگی شروع کیجئے۔اس مہینہ میںنیکیاں کرنا اور گناہوں سے بچنا بہت آسان ہوتا ہے اور اعمال صالحہ پر ثواب زیادہ سے زیادہ ملتا ہے۔ نفل کا ثواب فرض کے برابر اور فرض کا ثواب ستر درجہ زیادہ ملتا ہے۔
۲۔ اس مہینے کے اعمال نماز، تلاوت قرآن کریم، تسبیح و درود شریف، ذکر و اذکار مسنونہ، دعا کااہتمام، زیادہ سے زیادہ وقت مسجد شریف میں گذار کر یاد الٰہی اور اعتکاف، راتوں کو جاگ کر مولائے حقیقی سے عجز و زاری کرنا،، غریبوں، مسکینوں، یتیموں، بیواؤں، ضعیفوں پر شفقت، ان کی دلجوئی اور خدمت و معاونت نیز اپنے اعمال و اخلاق کا تزکیہ کر کے اخلاق فاضلہ کا حصول اور عادات رزیلہ جھوٹ، بد نظری ، بری عادات، نشہ کی چیزوں، ریا، کبر ، حسد، بغض وغیرہ سے چھٹکارا پانا ہے تاکہ لعلکم تتقون کے حکم کی تعمیل کی جا سکے۔
۳۔ ہمارا وطن مسلم اکثریت والا علاقہ ہے۔ یہاں کے دفاتر، بازاروں ، سکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں، بستیوں، شہروں، دیہاتوں ، گھروں اور معاشرہ میں ایسا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے جس سے پتہ چلے کہ اس وقت ہر طرف اس مبارک مہینے کے اثرات ظاہر ہو رہے ہیں۔ اس برکت سے خیر ہی خیر اور رحمت نازل ہوگی۔
۴۔ اپنی مستورات اور بچوں کو بھی اس کی تاکید کی جائے تاکہ وہ بھی اسلامی ماحول کے برپا کرنے میں حصہ دار بنیں۔ خصوصاً اپنے بچوں کو اس بات کا احساس دلائیں کہ سال بھر کھانا پینا دن بھر چالو رکھ سکتے تھے۔اب ایک ایسا مہینہ آگیا جب بچہ ہونے کے باوجود دن میں کھانا ساتھ نہیں لے جا سکتے ۔ مریض اور بچوں کو بھی پردے میں رہ کر ہی کھانے کی گنجائش ہے۔ علی الاعلان نہیں کھا سکتے۔ اس کے لئے سکول انتظامیہ سے گفتگو کر کے احترام رمضان کا ماحول پیدا کیجئے۔
۵۔ عبادات کے بعد اہم فریضہ حلال روزی کی طلب کا ہے غیر شرعی طریقوں سے روزی حاصل کرنے جیسے رشوت، سود، چوری، دھوکہ دہی، کسی کے حق کو دبا لینا، غصب کرنا، چھیننا، زبردستی کسی کا مال لینا اس کی اسلام میں گنجائش نہیں۔ ان مالی حقوق کی طرح زبان یا ہاتھ سے کسی کو تکلیف دینا ،ظلم کرنا، غیبت، بہتان، چغلی، گالی گلوچ، لڑائی جھگڑا، کسی کی عزت و عصمت پر حملہ کرنا ، ناحق جان لینا یہ بھی حقوق العباد میں شامل ہیں۔ اسلام اس کی ہرگز اجازت نہیںدیتا۔ رمضان المبارک میں خصوصی طور پر ایسی حرکات سے پرہیز کیجئے تاکہ مستقل عادت پیدا ہو جائے اور نیک صالح زندگی کے وجود میں آنے کی شکل پیدا ہو۔
۶۔ اعتکاف اس مہینہ کی خصوصی عبادت ہے ہر شخص کو اس کے لئے کوشش کرنی چاہیے کہ چند ایام مسجد شریف میں گذارے نفل یا مسنون اعتکاف کرے۔ نیز ممکن ہو تو اپنے روحانی استادوں مشائخ اور اکابر کی صحبت میں کچھ وقت گذار کر اپنی روح کا تزکیہ کرے تاکہ جس مقصد ے لئے اللہ پاک نے انسان کو دنیا میں بھیجا ہے اس کی چاشنی محسوس ہو۔(مستورات اپنے گھر میں نماز کی جگہ میں اعتکاف کر سکتی ہیں)۔
۷۔ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہونے کے ناطے دوسروں کو بھی ان چیزوں کی تلقین کرنے کی کوشش کریں۔ ہمارے اسلاف نے قرون اولیٰ سے ہی صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہ کر ان کے بعد تابعین تبع تابعین سے لیکر آج تک ہر طبقہ نے اپنے علماء و مشائخ سے اپنی اصلاح کرائی ہے۔ ماہ مبارک اس کا بہترین موقع ہے۔ سال بھر دنیا کے مسائل میں الجھے رہے۔ اس مہینہ میں کچھ وقت نکال کر اپنے مالک کے دربار میں مسجد شریف میں ڈیرہ ڈال کر پڑجائیے تاکہ اس کی رحمت متوجہ ہو۔
۸۔ پورے مہینے اپنی ہمت اور استعداد کے موافق مسکینوں کی غمگساری، روزہ داروں کو افطاری اور محتاجوں کی خبر گیری کر کے عید الفطر سے قبل صدقہ فطر ادا کر کے ہی عید گاہ میں حاضری دینا مومن بندہ کا بہترین طریقہ ہے۔اللہ تعالی رمضان المبارک کی قدر دانی نصیب فرمائے۔ اٰمین
شائع کردہ: دارالعلوم رحیمیہ بانڈی پورہ کشمیر

تبصرے
Loading...