دہرا دون کالجوں سے کشمیری طلبا کی گھر واپس لانے کا معاملہ ، پی ڈپی پی لیڈران کے خلاف کیس درج کی جائے ، اترا کھنڈ کے وزیر کا مطالبہ

29

طلبا خوفزدہ تھے ، گھر جانے کی خواہش کی تو کالج منتظمین سے اجازت کے بعد ہی گھر واپس لائیں گے / اعجاز میر

سرینگر /21فرور ی: اتراکھنڈ اور دہرا ودن سے کشمیری طلبا کو گھر واپس لانے پر سخت اظہار برہمی کرتے ہوئے اتر اکھنڈاکے وزیر سیاحت نے مطالبہ کیا کہ پیپلز ڈیمو کرٹیک پارٹی ( پی ڈی پی ) لیڈران کے خلاف مقدمہ در ج کیا جائے ۔اسی دوران سنیئر پی ڈی پی لیڈر اور سابق ممبر اسمبلی اعجاز احمد میر نے اترا کھنڈ کے وزیر کے بیان پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کئی کشمیری طلاب نے گھر آنے کی خواہش ظاہر کی جس کے بعد کالج انتظامیہ سے اجازت کے بعد انہوں نے بچوں کو اپنے ساتھ گھر واپس لایا ۔سی این آئی کے مطابق اترا کھنڈ کے وزیر سیاحت ستہ پال مہاراج نے مطالبہ کیا ہے کہ جن پی ڈی پی لیڈران نے اترا کھنڈ کا دورہ کرکے وہاں سینکڑوں کشمیری طالب علموں کو اپنے ساتھ گھر واپس روانہ کیا ان کے خلاف کیس درج کیا جائے ۔ خیال رہے کہ پی ڈی پی کا ایک وفدجو ممبر پارلیمنٹ میر فیاض ، سیابق ممبر اسمبلی اعجاز میر اور وحید الرحمان پرہ پر مشتمل نے گزشتہ دنوں اترا کھنڈ کا دورہ کرکے وہاں کشمیری طالب علموں کی حفاظت کو لیکر کالج منتظمین اور انتظامیہ سے بات کی جبکہ سینکڑوں کو انہوں نے اپنے ساتھ گھر واپس لایا ۔ پی ڈی پی لیڈران کی طرف سے کشمیری طالب علموں کو گھر واپس لانے پر سخت اظہار برہمی کرتے ہوئے اترا کھنڈ کے وزیر سیاحت نے مطالبہ کیا کہ ان کے خلاف کیس درج کی جائے ۔ معروف انگریزی روز نامہ انڈین ایکسپرس کی ایک رپورٹ کے مطابق ستہ پال مہاراج کا کہنا تھا کہ پی ڈپی پی لیڈران کی طرف سے کشمیری طالب علموں کو گھر لیجانے نا قابل برداشت ہے کیونکہ بچوں کو گھر لیجانے کا حق صرف ان کے والدین کو ہے نہ کہ پی ڈی پی لیڈران کو ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جن پی ڈپی لیڈران نے طلبا کو گھر اپنے ساتھ واپس روانہ کیا ان کے خلاف کیس درج کرکے کارورائی عمل میں لائی جائے ۔ اترا کھنڈ کے وزیر کے بیان پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے وفد میں شامل سنیئر پی ڈپی پی لیڈر اور سابق ممبر اسمبلی وچی اعجاز احمد میر نے بتایا کہ بیرون ریاستوں میں کشمیری طلبا کی ہراسانی کے بعد پی ڈی پی وفد اترا کھنڈ حالات کا جائیزہ لینے کیلئے گیا تھا جس دوران انہوں نے وہاںانتظامیہ اور کالج منتظمین سے بات کی۔ انہوں نے بتایا کہ ہراسانیوں کی وجہ سے کشمیری طلبا اتر اکھنڈ اور دون کالجوں میں کشمیری طالب علموں کو خوفز دہ پایا اور طلبا کی طرف سے گھر واپسی کی خواہش کے بعد انہوں نے با ضابطہ طور کالج منتظمین سے طلبا کیلئے کئی دنوں کی چھٹی مانگی جس کے بعد طلبا کیلئے ٹرانسپورٹ کا انتظام کرکے انہوں نے کشمیری طلبا کو اپنے ساتھ گھر واپس روانہ کیا ۔ انہوں نے اترا کھنڈ کے وزیر کے بیان کو بدقسمتی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ بیرون ریاستوں میں کشمیری طلبا کی حفاظت کے معاملے کو لیکر اگر پی ڈپی پی لیڈران کو جیل بھی جانا پڑے گا تو وہ اس میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرینگے ۔(سی این آئی)

تبصرے
Loading...