دور دراز علاقوں میں قائم سرکاری سکولوں میں اساتذہ کی کمی

پرائیویٹ سکولوں کے بنسبت اعلیٰ تعلیم یافتہ اساتذہ کی خدمات کے باوجود نتائج ۔؟

0 12

سرینگر/14جون/سی این آئی/ وادی کے دور دراز علاقوں میں قائم سرکاری سکولوں میں جہاں بچوں کی تعداد بہت زیادہ اور اساتذہ کی تعداد بلکل کم ہے وہیں پر سرکاری سکولوںمیں اعلیٰ تعلیم یافتہ اساتذہ اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں تاہم پرائیویٹ سکولوں کے بنسبت سرکاری سکولوں کے امتحانی نتائج مایوس کن ہوتے ہیں ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق وادی کے دور دراز علاقوں میں سرکاری سکولوں میں زیر تعلیم بچوں کی تعداد بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے ان سرکاری سکولوں میں اساتذہ بھی زیادہ ہونی چاہئے تاہم اکثر سکولوں میں اساتذہ کم اور طلبہ زیادہ ہیں جس کے نتیجے میں سرکاری سکولوںمیں زیر تعلیم غریب بچوں کا مستقبل مخدوش بنتا جارہا ہے ۔سرکاری سکولوں میں اگرچہ اعلیٰ تعلیم ماہر تعلیم اساتذہ کی خدمات مئیسر ہیں وہیں پر کئی سکولوں میں اساتذہ کی کمی ہے جبکہ ان سکولوںمیں طلبہ کی کافی پائی جارہی ہے ۔جس کی وجہ سے سرکاری سکولوں میں زیر تعلیم اُس طرزپر تعلیم حاصل نہیں کرسکتے جس کے وہ مستحق ہیں ۔ اس حوالے سے جنوبی کشمیر کے مختلف علاقوں میں قائم سرکاری سکولوں میں زیر تعلیم بچوں کے والدین نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اکثر سکولوںمیں اساتذہ کی کمی پائی جارہی ہے اور اس پر ستم ظریفی یہ کہ اساتذہ کو دفتروں کے ساتھ منسلک رکھا جاتا ہے ۔ سی این آئی کے مطابق والدین نے کہاکہ اگر کسی غفلت شعاری کی پاداش میں کسی ٹیچر کو سزا کے طور پر اٹیچ رکھنا مطلوب ہیں تو ان کو اپنے علاقوں سے دور سکولوںکے ساتھ ہی اٹیچ رکھا جائے تاکہ سکولوں میں زیر تعلیم بچوںکے مستقبل کو بچایا جاسکے ۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ وادی میں قائم اکثر سرکاری سکولوں میں ٹیچنگ سٹاف کی کافی کمی ہے جبکہ سرکار ی سکولوں میں زیر تعلیم غریب بچے ایک ہی کمرے میں د و دو تین تین کلاس دیتے ہیں ۔ جبکہ سکولوں میں رول کافی ہونے کے سبب اساتذہ کی کمی پائی جاتی ہے ۔ جو سرکاری سکولوںکے امتحانی نتائج پر اثر انداز ہوتا ہے ۔ (سی این آئی )

تبصرے
Loading...