حالات خراب ہونے کے حوالے سے کشمیر محض بدنام

انتخابات کے دوران کشمیر سے زیادہ بنگال میں تشدد اور دنگا فساد ہوا/وزیر اعظم مودی

0 155

سرینگر: وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ کشمیر حالات خراب ہونے پر محض بدنام ہے جبکہ کشمیر سے بھی بدتر حالات مغربی بنگال کے ہیں جہاں ممتا بینرجی حکومت چلارہی ہے ۔ ایک ٹی وی چینل کو انٹرویودیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہاکہ کشمیر میں بلدیاتی انتخابات ہوئے ، لوک سبھا انتخابات ہوئے وہاں اس قدر حالات خراب نہیں ہوئے جس طرح مغربی بنگال میں ہوئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بنگال میں لوک سبھا انتخابات کے چھ مرحلوں میں ہر وقت دھنگے اور فسادات بپاء ہوئے جبکہ کشمیر میں ایسا کوئی واقع پیش نہیں آیا ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق وزیر اعظم مودی نے کہا’’ تشدد، دہشت گردی کی بات ہو تو کشمیر کا نام آتا ہے، لیکن اس کشمیر میں پنچایت کے انتخابات ہوئے 30 ہزار کے قریب لوگ میدان میں تھے‘‘۔انہوںنے کہا کہ حالات خراب ہونے میں کشمیر محض بدنام ہے اس سے زیادہ خراب حالات بنگال کے ہیں جہاں پر مغربی بنگال حکومت چلارہی ہے ۔ مغربی بنگال میں لوک سبھا انتخابات کے دوران ہو رہے تشدد کو لے کر وزیر اعظم نریندر مودی نے مغربی بنگال کی ممتا بنرجی کی حکومت پر حملہ بولا ہے۔ وزیر اعظم مودی نے کہا کہ مغربی بنگال کے مقابلہ میں جموں وکشمیر میں الیکشن زیادہ پر امن ہوتے ہیں۔ وزیر اعظم مودی نے نیوز 18 ہندی کو دئیے ایکسکلوزیو انٹرویو میں کہا’’ تشدد، دہشت گردی کی بات ہو تو کشمیر کا نام آتا ہے، لیکن اس کشمیر میں پنچایت کے انتخابات ہوئے 30 ہزار کے قریب لوگ میدان میں تھے‘‘۔لوک سبھا کے چھ مراحل کے انتخابات ہوئے وہاں تشدد، دھنگا فساد نہیں ہوئے ۔وزیر اعظم نریندر مودی نے مغربی بنگال تشدد کو لے کر کہا کہ ملک میں جو لوگ جمہوریت میں یقین رکھتے ہیں اور نیوٹرل ہیں، ان کا خاموش رہنا انتہائی تشویشناک ہے کیونکہ اس پورے دور میں مودی کے تئیں نفرت کی وجہ سے باقی تمام چیزیں معاف کر دینے کا جو طریقہ بن گیا ہے اس نے ملک کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔سی این آئی کے مطابق وزیراعظم مودی نے کہا کہ جو لوگ جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں اور جو نیوٹرل ہیں، ان کے لئے ان کی خاموشی سب سے زیادہ تشویشناک ہے کیونکہ آپ دو چیزیں دیکھئے۔ تشدد، دہشت گردی ہو توکشمیر کا نام آتا ہے، لیکن اس کشمیر میں پنچایتوں کے انتخابات ہوئے، تقریبا 30 ہزار لوگ تھے۔ کسی پولنگ بوتھ پر تشدد کا کوئی بھی واقعہ نہیں ہوا۔ اسی مدت میں بنگال میں پنچایت کے انتخابات ہوئے جس میں سینکڑوں لوگ مارے گئے۔ جو جیت کر آ گئے ان کے گھر جلا دئیے گئے۔ ان کو جھارکھنڈ یا دیگر ریاستوں میں جا کر تین۔ تین مہینے منھ چھپا کر رہنا پڑا۔ ان کا گناہ یہی تھا جو جیت کر آئے تھے۔وزیر اعظم نے کہا کہ اس وقت یہ جمہوریت کی بات کرنے والے لوگ بالکل خاموش رہے۔ بی جے پی بھی آواز اٹھاتی رہی، وہاں کی کانگریس اور لیفٹ پارٹی بھی آواز اٹھاتی رہی، پارلیمنٹ میں بھی کانگریس، بی جے پی، لیفٹ سب نے آواز اٹھائی لیکن جو لوگ اپنے آپ کو نیوٹرل کہتے ہیں وہ چپ رہے اس سے ان لوگوں کو طاقت ملتی گئی۔پی ایم نے آگے کہا انتخابات سے پہلے بی جے پی کا وزیر اعلی جائے تو ان کا ہیلی کاپٹر تک لینڈ نہیں کرنے دیا گیا۔ آخری لمحہ میں اجلاس کینسل کر دی جائے۔ ابھی پرسوں بھی وزیر اعظم کا اجلاس کینسل کر دی تھی رات 9 بجے اجازت ملی، اس کے دو دن پہلے امت بھائی شاہ کی اجلاس کینسل کر دی تو یہ مکمل طور پر غیر جمہوری ہے۔اس کا سبب یہ ہے کہ ان کو بی جے پی، کانگریس یا لیفٹ سے خوف نہیں ہے، ممتا جی کی خصوصی طور پر اور ٹی ایم سی کو بنگال کے عوام کی طاقت کا ڈر ہے۔ ان کو لگتا ہے کہ اگر بنگال کے عوام اس سچ کے ساتھ مکر کر نکل پڑے تو ان کا مستقبل تار تار ہو جائے گا۔ اس لئے بنگال حکومت، ٹی ایم سی پارٹی، ٹی ایم سی کے غنڈے ان تینوں کی جو جگل بندی ہے اس کی عوام کے خلاف لڑائی ہے۔

تبصرے
Loading...