جے کے بینک نے اپنے ٹریجری نظامِ کار مرکز کو سرینگر میں چالو کیا۔

ریاست کی معاشی ترقی بینک کی ترقی پر منعصر ہے: پرنسپل سیکریٹری فائنانس

0 136

سرینگر/ مئی16: "جے اینڈ کے بینک ریاست کی معیشت میں ایک کلیدی کردار ادا کر رہا ہے اور اسکی ترقی اور خوشحالی کے بغیر ریاست کی ترقی نا ممکن ہے لہٰذا بینک ملازمین اور انتظامیہ پر ایک بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس بینک کو ترقیوں کے زینے چڑھنے میں اپنا بھر پور رول ادا کریں۔” ان باتوں کا اظہار ریاست جموں و کشمیر کے پرنسپل سیکریٹری فائنانس ڈاکٹر ارون کمار مہتا نے کل اُس وقت کیا جب جموں و کشمیر بینک نے اپنی ایک مثبت پیش رفت میں اپنے ٹریجری بینک کاری نظام کو بینک کے صدر دفتر واقع مولانا آزاد روڈ سرینگر پر چالو کیا ہے جو اس سے پہلے ملک کے کاروباری مرکز شہر ممبئی سے کام کر رہا تھا۔ اپنے ٹریجری آپریشنز کو ممبئی سے سرینگر منتقل کرنے کا مقصد اسکے کام کاج میں اصلاحات اور شفافیت لانا ہے۔ بینک کے کارپوریٹ آفس پر کل اس نئے دفتر کا افتتاح ریاست کے پرنسپل سیکریٹری فائنانس اور بینک کے بورڈ آف ڈائریکٹرس کے ممبر ڈاکٹر ارون کمار مہتا نے کیا جنکے ہمراہ بینک کے چیئرمین اور سر پرست اعلیٰ پرویز احمد اور بورڈ آف ڈائریکٹرس کے دیگر ممبران موجود تھے۔افتتاحی تقریب پر بینک کے ایکزیکٹیو پریزیڈنٹ پی کے تکو اور آر کے چھبر، پریزیڈنٹ غلام محمد صادق، راکیش گنڈوترا، ارون گنڈوترا، غلام نبی تیلی، سنیل گپتا، محمد مقبول لون، محمد یونس پٹو، اور اشرف علی ملک کے علاوہ بینک کے دیگر وائس پریزیڈنٹ بھی شامل تھے۔اس موقع پر ڈاکٹر ارون کمار نے کہا کہ بینک کے سالانہ منافع میں جو اضافہ سامنے آیا ہے وہ قابل تحسین ہے اور جس رفتار سے یہ بینک ترقی و منافع کے زینے چھو رہا ہے، میں پُر امید ہوں کہ بہت جلد یہ بینک ہندوستان کے صف اول کے بہترین بینکوں میں شمار ہوگا۔انہوں نے کہا کہ بینک کو ہر صورت میں یہاں کے لوگوں کے اعتماد کو بحال رکھنے کیلئے کوشاں رہنا ہے اور اس میں کوئی مبالغہ نہیں ہے کہ یہ بینک کے ملازمین کی صلاحیتوں کا اظہار ہے کہ ملک کے کاروباری مرکز سے باہر نکل کر وہ بینک کے ٹریجری نظام کو سرینگر سے چلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ایک سادہ تقریب پر بولتے ہوئے بینک کے چیئرمین اور سرپرست جناب پرویز احمد نے کہا کہ یہ اقدام نہایت غیر معمولی ہے کہ ہم اپنے اُس دیرینہ خواب کو پورا کر رہے ہیں جسکا مقصد نہ صرف ٹریجری کے کام کاج میں طوالت کودور کرکے اس میں سرعت لانی ہے بلکہ اسے ایک مظبوط منافع بخش ڈپارٹمنٹ میں
تبدیل کر نا ہے تاکہ ہم اپنے 2022کے اپنے تجارتی مشن تک تیزی سے پیش قدمی کر سکیں ۔یہ کوئی آسان کام نہیں تھا لیکن جے کے بینک ملازمین نے اسے اپنی جرعت اور محنت سے کر دکھایا جس میں بینک کے بورڈ آف ڈائریکٹرس اور بینک انتظامیہ کا تعاون شامل حال رہا ہے۔ ٹیکنالوجی کے بڑھتے رجحان نے جغرافیائی حدود کو بے معنی بنا دیا ہے اور آئی ٹی کے پھیلاؤ سے یہ ممکن ہوسکا کہ ہم اپنی ٹریجری کو ممبئی سے کارپوریٹ ہیڈ کوارٹر لے آئے ہیں۔ چیئرمین نے مزید کہا کہ ہم اس ٹریجری کو ملک کی سب سے کامیاب اور بڑی ٹریجری بنانا چاہتے ہیں۔انہوں نے بینک کے اُن سابقہ افسروں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ممبئی میں اس ٹریجری کو اس قدرفعال بنایا کہ جے کے بینک ملکی سطح پر اپنی پہچان بنانے میں کامیاب ہوا۔ بینک کے دونوں ایکزیکٹیو صدور نے بھی اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انچارج ٹریجری آپریشنز راکیش کول نے بینک کے ٹریجری نظام کے مکمل خدو خال کو پیش کیا۔ تقریب میں اپنے استقبالیہ خطبے میں پریزیڈنٹ سنیل گپتا نے کہا کہ یہ چیئرمین کی قابلیت اور دور اندیشی کا ثمر ہے کہ ہم اپنی ٹریجری سے آر بی آئی کے بینک کاری ضوابط کو بر قرار رکھے ہوئے ہیں جس میں ڈومسٹک اور کیپٹل مارکیٹ کی کارگزاری اور انٹرنیشنل فوریکس مارکیٹ کی دیکھ ریکھ بھی شامل ہے۔یہ بینک کا وہ محکمہ ہے جہاں روزانہ بنیادوں پر کچھ ضروری بینک معاملات کو ملک کے بینکنگ نظام کے تحت سنبھالنا ہوتا ہے۔
تقریب پر اُن سابقہ افسراں کو تمغوں سے سر فراز کیا گیا جنہوں نے ٹریجری آپریشنز میں قابل قدر کام کیا ہے جن میں فضل محمود گانی، محمد امین میر، غلام احمد ریگو، بشیر الاسلام، محمد سلطان کابو، مشتاق احمد میر، آفتاب احمد قاضی، خوشید احمد فاضلی، محمد شفیع شیخ قابل ذکر ہیں۔

تبصرے
Loading...