جیہ بھادڑی نے اداکاراوں کو الگ پہچان دلائی

0 50

ممبئی: بالی ووڈ میں جیہ بھادڑی کا ان چند اداکاروں میں شمار کیا جاتاہے جنہوں نے محض شو پیس کے طورپر اداکاراوں کو استعمال کئے جانے کی سوچ کوتبدیل کرکے فلم انڈسٹری میں اپنی مضبوط پہچان بنائی۔جیہ بھادڑی کی اداکاری والی فلموں پر اگر نظر ڈالیں تو پتہ چلے گا کہ وہ پردے پر جو کچھ بھی کرتی ہیں وہ ان کے ذریعہ ادا کئے گئے کردار کا ضروری حصہ لگتا ہے اور اس میں وہ کبھی بھی غلط نہیں ہوتیں ۔ ان کی اداکاری کی خصوصیت رہی ہے کہ وہ کسی بھی طرح کے کردار کے لئے فٹ رہتی ہیں۔ فلم ‘کوشش’ میں گونگی کا کردار ہو یا پھر ‘شعلے یا کورا کاغذ’ میں سنجیدہ کردار یا پھر ‘ملی’ اور‘انامیکا ، پریچے ’ جیسی فلموں میں چلبلی لڑکی کا کردار ۔ ہر کردار کو انہوں نے اتنی خوبصورتی سے ادا کیا کہ جیسے وہ ان ہی کے لئے بنی ہو۔جیہ بھادڑی کی پیدائش 9اپریل 1948کو بنگالی کنبہ میں ہوئی تھی ۔ ان کے والد ترون بھادڑی صحافی تھے ۔ جیہ بھادڑی نے اپنی ابتدائی تعلیم سینٹ جوزف کونوینٹ سے مکمل کی۔ اس کے بعد انہوں نے پونا فلم انسٹی ٹیوٹ میں داخلہ لے لیا۔ 70کی دہائی میں اداکارہ بننے کا خواب لیکر جیہ بھادڑی نے فلم انڈسٹری میں قدم رکھا۔ انہوں نے اپنے اداکاری کیریر کی شروعات 15برس کی عمر میں عظیم فلم ساز۔ڈائرکٹر ستیہ جیت رے کی بنگلہ فلم ‘مہانگر’ سے کی ۔ اس ے بعد انہوں نے ایک بنگلہ کامیڈی فلم ‘دھنی موئے ’ میں بھی کام کیا جو ٹکٹ کھڑکی پر سپر ہٹ ثابت ہوئی۔جیہ بھادڑی کوابتدائی کامیابی دلانے میں فلم ساز۔ ڈائرکٹر رشی کیش مکھرجی کی فلموں کا اہم رول رہا۔ انہیں پہلا بڑا بریک ان کی فلم ‘گڈی’ سے ملا۔ اس فلم میں جیہ بھادڑی نے ایک ایسی لڑکی کا کردار ادا کیا جو فلمیں دیکھنے کی کافی شوقین ہے اور اداکار دھرمیندر سے محبت کرتی ہے ۔ اپنے اس کردار کو جیہ بھادڑی نے اتنے چلبلے طریقہ سے ادا کیا کہ ناظرین اس کردار کو آج بھی بھول نہیں سکے ہیں۔1972میں جیہ بھادڑی کو رشی کیش مکھرجی کی فلم ‘کوشش’ میں کام کرنے کا موقع ملا جو ان کے پردہ سیمیں کیریر کے لئے میل کا پتھر ثابت ہوا۔ اس فلم کی کامیابی کے بعد وہ شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گئیں۔ وہ اس فلم میں زبردست اداکاری کے لئے انہیں اداکارہ کے فلم فے ئر ایوارڈ سے نوازا گیا۔ فلم کوشش میں جیہ بھادڑی نے گونگی لڑکی کا کردار ادا کیا جو کسی بھی اداکارہ کے لئے بہت بڑا چیلنج تھا۔ بغیر ڈائلاگ بولے صرف آنکھوں کے اشاروں سے ناظرین کو سب کچھ بتا دینا جیہ بھادڑی کی اداکاری کی صلاحیت کی ایسی مثال تھی جسے شاید ہی کوئی اداکارہ دہرا سکے ۔کوشش کی کامیابی کے بعد رشی کیش مکھرجی جیہ بھادڑی کے پسندیدہ ڈائرکٹر بن گئے ۔ بعد میں جیہ بھادڑی نے ان کی ہدایت کاری میں باورچی، چپکے چپکے اور ملی جیسی کئی فلموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے ۔1972میں ریلیز ہوئی فلم ‘ ایک نظر’ کی تیاری کے دوران جیہ بھادڑی کا جھکاو فلم اداکار امیتابھ بچن کی طرف ہوگیا۔ اس کے بعد جیہ بھادڑی اور امیتابھ بچن نے 1973میں شادی کرلی۔ شادی کے بعد بھی جیہ بھادڑی نے فلموں میں کام کرنا جاری رکھا۔1975جیہ بھادڑی کے کیریر کا اہم پڑاو ثابت ہوا۔ اس سال انہیں رمیش سپی کی سپر ہٹ فلم ‘شعلے ’ میں کام کرنے کا موقع ملا۔ اس فلم سے پہلے ان کے بارے میں یہ سوچ تھی کہ وہ صرف رومانی یا چلبلے کردار ادا کرنے کی اہل ہیں لیکن انہوں نے اس فلم میں اپنی سنجیدہ اداکاری سے ناظرین کو مسحور کردیا۔80کی دہائی میں شادی کے بعد گھریلو ذمہ داریوں کے پیش نظر جیا بھادڑی نے فلموں میں کام کرنا کافی حد تک کم کردیا۔یش چوپڑا کی ہدایت میں بنی سال 1981میں ریلیز ہوئی فلم ‘سلسلہ’ان کے سنی کریئر کی آخری فلم ثابت ہوئی۔اس کے بعدجیا تقریباً 17برسوں تک فلم انڈسٹری سے دور رہیں۔حالانکہ اس دوران انہوں نے ایک فلم کی کہانی بھی لکھی۔بعد میں اس کہانی پر سال 1988میں امیتابھ بچن کی فلم شہنشاہ ریلیز ہوئی۔سال 1998 میں ریلیز ہوئی فلم ‘ہزار چوراسی کی ماں’ کے ذریعہ جیا نے اپنے کریئر کی دوسری اننگ شروع کی۔گووند نہلانی کی ہدایت میں نکسلزم کے مسئلے پر بنی اس فلم میں جیا نے ایک ماں کا کردار ادا کیا تھا ۔فلموں میں ایک طویل عرصہ گزار کر انہوں نے سیاست میں بھی قدم رکھا اور سماجوادی پارٹی کے تعاون سے راجیہ سبھا رکن بنیں۔ہندوستانی سنیمامیں ان کی قابل قدر خدمات کے لئے 1992میں انہیں ملک کے چوتھے سب سے بڑے شہری اعزاز پدم شری سے نوازا گیا۔اپنے فلمی کریئرمیں وہ آٹھ بار فلم فیئر ایوارڈ سے نوازی جاچکی ہیں۔پردہ سیمیں پر امیتابھ اور جیا کی جوڑی کو بے حد پسند کیاگیا ۔ان کی جوڑی والی فلموں میں زنجیر،ابھیمان،ملی،چپکے چپکے ،شعلے ،سلسلہ،کبھی خوشی کبھی غم جیسی سپرہٹ فلمیں شامل ہیں۔بالی ووڈ میں جیاکا نام ان اداکاراؤں میں شامل ہے جو فلم کی تعداد کے بجائے اس کے معیار پر زیادہ زور دیتی ہیں۔اسی وجہ سے انہوں نے اپنے چار دہائی لمبے سنی کریئر میں تقریباً 45فلموں میں ہی کام کیاہے ۔ان کی قابل ذکر فلمیں جوانی دیوانی،باورچی،پریچے ،پیاکاگھر،شور،انامیکا،پھاگن،نیادن نئی رات،کوئی میرے دل سے پوچھے ،لاگا چنری میں داغ،درون وغیرہ قابل ذکر ہیں۔یواین آئی

تبصرے
Loading...