جنگجوئوں کومار نے کیلئے ہمارے جوان کیا الیکشن کمیشن سے اجازت لیں گے؟/ وزیراعظم مودی کا کشی نگرریلی میں سوال

فوج پر پتھر برسانے اور گولیاں چلانے والوں کے حمایتیوں کے ساتھ بات نہیں ہوگی

0 79

سرینگر: وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ کشمیر میں ملٹنٹوں کے ساتھ مقابلہ کرنے سے پہلے کیا فوج کو الیکشن کمیشن سے اجازت حاصل کرنی ہے۔انہوںنے کہا کہ ملک کو اس وقت سب سے بڑا چلینج جو درپیش ہے وہ ’’دہشت گردی‘‘ہے اور اس کے خلاف ہماری فوج جاںفشانی سے کام کررہی ہے ۔ انہوںنے کہا کہ ہم سنگبازوں اور ملٹنٹوںکے حمایتیوں کے ساتھ بات چیت نہیں کرسکتے جو ہمارے ویر جوانوں پر پتھر اور گولیاں برسارہے ہیں۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ فوج کو ملٹنٹوں کے ساتھ مقابلہ کرنے سے پہلے الیکشن کمیشن سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے ۔ کشی نگرمیں اتوارکو’وجے سنکلپ ریلی’ کوخطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نریندرمودی نے کہا کہ مرکزمیں ایک بارپھرمودی حکومت بن رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانچویں مرحلے کے بعد مخالف چاروں خانے چت ہوچکے ہیں۔ ملک مضبوط، فیصلہ کن اورایماندارحکومت کے لئے ووٹ دے رہا ہے۔وزیراعظم نے اس کیساتھ ہی کہا ‘دہشت گردی کے خلاف جو سیدھی لڑائی ہم لڑرہے ہیں، اس کیلئے ملک ووٹ دے رہا ہے۔ ہندوستان کودہلانے والیآج ڈرڈرکرجینے کومجبورہیں، اس لئے ملک ہمیں ووٹ دے رہا ہے۔ آج دنیا میں جوہندوستان کی گونج سنائی دے رہی ہے، ملک اس کیلئے بھارتیہ جنتا پارٹی کواورمودی کوووٹ دے رہا ہے۔ پاکستان کے انتہاء پسندوں کوگھرمیں گھس کرمارنے کی پالیسی کیلئے ملک کمل کھلا رہا ہے۔ رام کا نام لینے والوں کوجیل میں ڈالنے والوں کوسزاملے، اس لئے ملک کمل کے نشان کوووٹ دے رہا ہے۔ 23 مئی کوایک بارپھرمودی حکومت آرہی ہے’۔وزیراعظم نے کہا ‘کچھ لوگوں کواعتراض ہے کہ آج الیکشن چل رہا ہے توملی تنٹوںکو کیوں مارا؟ وہ بم اوربندوق لیکرسامنے کھڑے ہیں، کیا وہاں ہمارے جوان الیکشن کمیشن سے اجازت لینے جائیں کہ میں اس کوگولی ماروں یا نہیں۔نریندرمودی نے کہا کہ کشمیر میں ہمارے فوجیوں پر پتھر برسانے اور گولیاں برسانے والوں کے حمایتیوں کے ساتھ بات چیت نہیں کی جاسکتی ۔انہوں نے کہا اچھا کشمیرمیں جب سے ہم آئے ہیں، ہر دوسرے تیسرے دن صفائی ہوتی رہتی ہے، یہ صفائی مہم میرا کام ہے بھائی، اس جیت کو والہانہ اورخوبصورت بنانا ہے۔ آپ کا ہرووٹ میرے لئے بہت ضروری ہے۔ میرے لئے ہر ووٹ بہت قیمتی ہے۔ جیت سامنے دیکھ کریہ وقت آرام کرنیکا نہیں، یہ وقت جیت کوتاریخی بنانیکا ہے۔ مہاملاوٹ کرنے والوں کی پریشانی بڑھ جائے گی۔راجستھان کے الورمیں ہوئی عصمت دری کا ذکرکرتیہوئے وزیراعظم نے کہا ‘راجستھان میں دلت بیٹی کیساتھ ظلم ہوا۔ اجتماعی عصمت دری ہوئی، وہاں نامدارکی حکومت ہے، جو بی ایس پی کے تعاون سے چل رہی ہے۔ دونوں پارٹیاں اس حادثہ کودبانے میں لگی ہیں۔ آج یوپی کی بیٹیاں بہن جی سے پوچھ رہی ہیں کہ راجستھان میں بیٹی کیساتھ جوحادثہ ہوا، اس پرآپ نیاپنی حمایت واپس کیوں نہیں لی؟ آپ کے ساتھ گیسٹ ہاوس حادثہ ہوا تھا، جس سے پورے ملک کوتکلیف ہوئی تھی۔ کانگریس حکومت کی نیت صحیح ہوتی تووہ الورمیں جوہوا، اسے چھپانیاوردبانے میں نہیں لگتی، لیکن نہیں ان کے پاس توایک ہی جواب ہے، ہوا توہوا’۔نریندرمودی نے کہا ‘آج جو لوگ ہماری ذات کا سرٹیفکیٹ مانگ رہے ہیں، جب انہیں آپ کی خدمت کا موقع ملا توانہوں نے اپنیلئے سینکڑوں ہزاروں کروڑروپئے کی جائیداد جمع کرلی۔ میں گجرات میں سب سے طویل وقت تک وزیراعلیٰ رہا، پانچ سال سے ملک کا وزیر اعظم ہوں اورمیرا اکاونٹ بھی ملک کے سامنے ہے۔ جب انہیں موقع ملا، توان لوگوں نے اپنے لئے لاکھوں کروڑوں کے بنگلے بنالئے۔ جب مجھے خدمت کا موقع ملا تومیں نیغریبوں کیلئے ڈیڑھ کروڑگھربنوائے۔ جب انہیں لوگوں کوموقع ملا توان لوگوں نے کوئلہ گھوٹالہ کر دیا۔ جب مجھے خدمت کا موقع ملا تومیں نے7 کروڑغریب ماوں کومفت گیس کنکشن دیا۔ جب ان لوگوں کوموقع ملا توان لوگوں نے بجلی میں بھی گھوٹالہ کردیا، جب مجھے خدمت کا موقع ملا توڈھائی کروڑسے زیادہ غریبوں کیگھرمیں مفت بجلی کنکشن دیا۔

تبصرے
Loading...