جنوبی کشمیر کے متعدد علاقوں میںبجلی کڑکنے اور بادل گرجنے کے بعد تیز ہوائیں سے لوگ سہم کر رہ گئے

کنڈ قاضی گنڈ میں شدید نوعیت کی ژالہ باری سے میوہ ناغات اور کھیتوں میں نا قابل تلافی نقصان

0 72

سرینگر: خراب موسمی صورتحال کے بیچ جنوبی کشمیر کے متعدد علاقوں میں گزشتہ شب اس وقت خوف و دہشت پھیل گئی جب بجلی کڑکنے اور بادل گرجنے کے بعد کہیں کہیں پر تیز ہوائیں بھی چلی۔ جبکہ ضلع کولگام کے کے درجنوں دیہات میں شدید نوعیت کی ژالہ باری ہوئی جس کے باعث میوہ جات اور کھڑی فصلوں کو شدید نقصان پہنچا ہے اور کسان خون کے آنسو رونے پر مجبور ہو رہے ہیں ۔ سی این آئی کے مطابق وادی کشمیر میں گزشتہ کئی دنوں سے جاری خراب موسمی صورتحال کے بیچ جنوبی کشمیر کے متعدد علاقوں میں جمعہ کی شام اس وقت لوگ گھروں میں سہم کر رہ گئے جب تیز ہوائوں کے بعد شدید نوعیت کی ژالہ باری ہوئی ۔ کولگام سے نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ کنڈ اورا س کے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ شب تیز ہوائوں کے ساتھ ساتھ شدید ژالہ باری بھی ہوئی ہے جسکی وجہ سے میوہ جات و دیگر کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچنے کی اطلاع ہے ۔معلوم ہوا ہے کہ کئی منٹوں تک جاری ژالہ باری کے نتیجے میں ہر طرف سفید ہی سفید نظر آرہا تھا جبکہ لوگوں میں زبردست خوف و دہشت کی لہر دوڑ گئی ۔ معلوم ہوا ہے کہ قہر آنگیز ژالہ باری کے نتیجے میں لوگ گھر وں میں سہم کر رہ گئے جبکہ فصیلوں اور میوہ باغات کو شدید نقصان ہوا ۔ شدید ژالہ باری کے باعث میوہ باغات اور کھیت کھیلانوں میں موجود فصلوں کو کافی نقصان ہو گیا جس کے نتیجے میں کسان اور باغ مالکان خون کے آنسو رونے پر مجبور ہو رہے ہیں ۔ ادھر کانگریس کے سنیئر لیڈر اور سابق ممبر اسمبلی کوگام محمد امین بٹ نے ژالہ باری سے ہوئے نقصان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ کسانوں اور باغ مالکان کو ہوئے نقصان کا معاوضہ فراہم کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ شدید ژالہ باری کے باعث میوہ باغات اور کھیتوں میں نا قابل تلافی نقصان ہو گیا ہے اور تیز ژالہ باری نے ہر طرف تباہی مچا دی ہے ۔ انہوں نے گورنر انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ کسانوں اور باغ مالکان کو ہوئے نقصان کا معاوضہ فراہم کیا جائے ۔

تبصرے
Loading...