جنوبی کشمیر میں وقتی تاجروں کی من مانیاں عروج پر

محکمہ زراعت کسانوں کو معقول قیمت دلانے میں ناکام

0 19

سرینگر/11جون /سی این آئی جنوبی کشمیر کے بیشتر اضلاع میں امسال کسانوں نے وسیع اراضی پر مٹر کی کاشت کو متبادل فصل کر طور پر کاشت کیا تاکہ انہیں زیادہ سے زیادہ منافع حاصل ہو سکے تاہم کسان وقتی تاجروں کی من مانیوں سے خون کے آنسو رو نے پر مجبور ہو گئے ہیں ۔ سی این آئی کے مطابق جنوبی کشمیر کے پلوامہ اور شوپیاں ضلع میں کسانوں نے وسیع اراضی پر مٹر کی کاشت کی تھء تاکہ انہیں معقول قیمت حاصل ہوسکے لیکن عارضی تاجر، کسانوں کو نامناسب قیمتیں دے کر دو دو ہاتھوں لوٹ رہے ہیں. جس سے کسانوں میں مایوسی پیدا ہوگئی ہے.غلام محمد نامی ایک کسان نے کہا کہ پچھلے چھ مہینوں کے دوران جس محنت و مشقت سے اس فصل کو ہم نے بویا اور تیار کیا ہے اس کے عوض آج ہمیں وہ قیمت نہیں مل رہا ہے جس سے ہم گزارہ کرسکے۔کیونکہ مقامی تاجروں نے مٹر کی ریٹ کو اس قدرگٹھایا کہ اس پیسے سے کسانوں کو فائدہ کے بجائے نقصان ہی ہورہا ہے.ایک اور کسان فیروز احمد کا ماننا ہے کہ سرکار کسانوں کی آمدنی کو دوگنا کرنے کیلئے روز نئے اسکیموں کو متعارف کرتی ہے تاہم کسانوں کو ان کے بوئے ہوئے فصلوں کا معقول قیمت دلانے کے لیے انتظامیہ صرف زبانی خرچ سے کام لے رہا ہے اور اب تک اس حوالے سے خاطر خواہ اقدامات نہیں اٹھائے جا رہے ہیں۔ کسانوں کا مطالبہ ہے کہ محکمہ زراعت فیلڈ عملے کو متحرک کرکے کسانوں کو فصلوں کا معقول قیمت دلانے میں اپنا کردار عطا کریتاکہ کسانوں کو دو دو ہاتھوں سے لوٹنے والے تاجروں کے چنگل سے بچایا جا سکے

تبصرے
Loading...