جموں و کشمیر پر GSTکا اطلاق دفعہ370پر آج تک کا سب سے بڑا دھچکا تھا/فاروق عبداللہ

60

آنے والے انتخابات ریاستی تشخص کے دفاع کی جنگ

سرینگر: آنے والے انتخابات کو ریاستی تشخص کے دفاع کی جنگ قرار دیتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبد اللہ نے کہا ہے کہ پارٹی سے وابستہ لیڈران، عہدیداران اور کارکنان کو پارلیمانی انتخابات کیلئے کمربستہ ہونے کی ہدایت دیتے ہوئے صدرِ نیشنل کانفرنس ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہاہے کہ نئی دلی نے اگرچہ ریاست کے اسمبلی انتخابات بلاوجہ مؤخر کردیئے تاہم ہمیں لوک سبھا الیکشن کیلئے آج سے ہی کام شروع کرناہے کیونکہ اس بار ہمیں ریاست کے تشخص کیلئے جنگ لڑنی ہے۔ سی این آئی کے مطابق پارٹی ہیڈکوارٹر پر شمالی اور جنوبی کشمیر سے آئے ہوئے پارٹی لیڈران، عہدیداران اور کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے صدرِ نیشنل کانفرنس نے کہا کہ پچھلے لوک سبھا انتخابات میں پی ڈی پی اور بھاجپا کی درپردہ شراکت داری تھی اور ایک منصوبے کے تحت پی ڈی پی والوں نے وادی میں بھاجپا کیخلاف ووٹ مانگے اور پھر انہی کے ساتھ مل گئی جبکہ جموںمیں بھاجپانے انتخابات کو مذہبی رنگت دیکر اپنا کام نکال دیا ۔ بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد ریاستی عوام نے جو کچھ دیکھا اور سہا اُس سے کوئی بے خبر نہیں ۔انہوں نے کہا کہ آنے والے لوک سبھا انتخابات میں بھاجپا کو شکست دیکر ہی ہم اپنی ریاست کی وحدت، اجتماعیت اور انفرادیت کو تحفظ فراہم کرسکتے ہیں۔ اس کیلئے الیکشن میں عوام کی بھر پور شرکت ضروری ہے۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کی مضبوطی میں ہی ریاست کے پرچم کی آن بان اور شان قائم و دائم رہ سکتی ہے کیونکہ یہی ایک ایسی جماعت ہے جو جموں وکشمیر کی انفرادیت اور وحدت کو تحفظ فراہم کرنے کا مادہ رکھتی ہے۔ نیشنل کانفرنس ہی جموں وکشمیر کے عوام کے حقوق کی پاسبان جماعت رہی ہے اور مستقبل میں بھی یہ جماعت اپنے بھر پور رول نبھائے گی۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ 2015میں پی ڈی پی اور بھاجپا کی الیکشن میں جیت کے بعد ہم نے ظلم و ستم ،جبر و استبداد ،افراتفری، قتل و غارت گری ، غیر یقینیت اور بے چینی کا بدترین دور دیکھا۔ پی ڈی پی کے دورِ حکومت میں کشمیری قوم نے جو مظالم سہے اُن کی تاریخ میں کہیں مثال نہیں ملتی ۔ پی ڈی پی بھاجپا عوام کش پالیسیوں کی وجہ سے ہی ریاست اقتصادی بدحالی کی نذر ہوگئی اور جی ایس ٹی کے اطلاق نے بچی کچھی کثر پوری کردی۔ صدرِ نیشنل کانفرنس ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ پی ڈی پی حکومت کی طرف سے ریاست پر جی ایس ٹی کا اطلاق 1953سے لیکر آج تک دفعہ370کیلئے سب سے دھچکا تھا جس کی وجہ سے ہم اپنی اقتصادی خودمختاری سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ انہوں نے کہا کہ سابق پی ڈی پی حکومت کی ناکامی اور نااہلی کی وجہ سے ریاست کا ہر ایک شعبہ بری طرح متاثر ہوا، ہم ایک سیکٹر میں پیچھے رہ گئے۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ الیکشن آنے والے ہیں اور ہمیں اپنی ریاست کے روشن مستقبل کیلئے اس میں بھر پور شمولیت کرنی پڑے گی ، اس کے سوا اور کوئی چارہ نہیں۔ انہوں نے پارٹی سے وابستہ تمام افراد کو لوگوںکے ساتھ قریبی رابطہ رکھنے کی ہدایت کی ۔

تبصرے
Loading...