جماعت اسلامی اور لبریشن فرنٹ کے بعد’’پی ڈی پی ‘‘دلی کے راڈار پر ۔؟

ریاستی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کے خلاف ملک اور ترنگا کے خلاف بیان دینے پر غداری کا کیس

0 35

سرینگر/: ریاستی گورنر ستیہ پال ملک کے عہد ہ سنبھالتے ہی مرکزی سرکار نے جماعت اسلامی اور لبریشن فرنٹ کو ممنوعہ قراردیا تھا جبکہ اس حوالے سے پارٹیوںسے منسلک درجنوں لیڈران کی گرفتاری بھی عمل میں لائی گئی ہے ۔ اس کارروائی کے بعد ایک عرضی کی بناء پر ریاست کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کے خلاف ’’ملک سے غداری‘‘ کا کیس درج کرلیا گیا ہے جس پر وادی میں سرگرم سیاستی تنظیموں میں چمہ گوئیاں شروع ہوگئی ہے اور یہ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ جماعت اسلامی اور لبریشن فرنٹ کے بعد اب پی ڈی پی پر دلی کے راڈار پر ہے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق ریاست جموں و کشمیر میں نئی گورنر کی تقرری کے بعد ہی وادی جموں و کشمیر میں سیاسی ہلچل شروع ہوگئی ہے اور ان کی تعیناتی کے بعد ہی جماعت اسلامی اور لبریشن فرنٹ پر پابندی عائد کرکے جماعت کے اثاثوں کو قبضے میں لیا گیا جبکہ فرنٹ اور جماعت سے وابستہ درجنوں لیڈران کو گرفتار بھی کرلیا گیا ہے ۔اور اب تازہ پیش رفت کے چلتے ایک فرد کی شکایت پر سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کے خلاف غداری کا کیس درج کرلیا گیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق ریاست کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کیخلاف’’’غداری‘‘کے بیان پر مبنی شکایت جموں ضلع مجسٹریٹ نے ایس ایس پی جموں کو روانہ کی ہے تاکہ اس سلسلے میں قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جاسکے۔ایک سماجی کارکن سکیش سی کھجوریہ نے بدھ کو کہا” پی ڈی پی صدر کیخلاف قومی پرچم، جو کہ قومی عزت کی ایک علامت ہے، کے بارے میں بیان اور اْن کی طرف سے دفعہ35اے ہٹائے جانے کی صورت میں1947کی صورتحال کی دھمکی کو لیکر شکایت ایس ایس پی جموں کو روانہ کی گئی ہے۔‘‘کھجوریہ نے 30مارچ کوآر ٹی آئی کے تحت ایک درخواست دی تھی جس میں اْنہوں نے محبوبہ کے مذکورہ بیان پر کی جانے والی کارروائی کی تفصیلات طلب کی تھیں۔انہوں نے25جون کو ضلع مجسٹریٹ جموں کی طرف سے اپنی درخواست کا جواب وصول کیا ہے جس میں اْنہیں مطلع کیا گیا ہے کہ محبوبہ کیخلاف شکایت قانونی کارروائی کیلئے ایس ایس پی جموں کو روانہ کی گئی ہے۔یاد رہے کہ نیشنل کانفرنس اور پیپلز ڈیمورکریٹک پارٹی نے دفعہ 370کے حوالے سے نئی دلی کو بار بار مطلع کیا ہے کہ اگر اس خصوصی پوزیشن کے ساتھ کسی بھی طرح کی چھیڑ چھاڑ کی گئی تو ریاست کا مرکز کے ساتھ الحاق ختم ہوجاتا ہے اور یہاں پر ترنگا لہرانے والا کوئی نہیں رہے گا۔ ( سی این آئی )

تبصرے
Loading...