جلندھر میں گرفتار کشمیری طالب علم کے خلاف کیس کو این آئی اے عدالت نے خارج کیا ہے

طالب علم کی فوری رہائی کے احکامات صادر، کیس میں مزید نوجوانوں ہنوز زیر حراست

0 82

سرینگر: این آئی اے عدالت نے کشمیری نوجوان کے خلاف کیس کو خارج کرتے ہوئے اس کی رہائی کے احکامات صادر کئے ہیں ۔ کیس میں شامل دیگر تین نوجوان ہنوز نظر بند ہیں ۔کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق این آئی اے کی جانب سے گرفتار کئے گئے متعدد کشمیری لیڈران اور نوجوانوں کے حوالے سے این آئی اے عدالت کی جانب سے اپنے نوعیت کے پہلے فیصلے میں عدالت نے ایک کشمیری نوجوان کے خلاف دائر کردہ کیس کو خارج کرکے اس کی فوری رہائی کے احکامات صادر کئے ہیں ۔ این آئی اے عدلات کے جج نربھو سنگھ گل نے سوموار کو ایک کشمیری طالب علم دانش صوفی کی رہائی کے احکامات جاری کئے ہیں ۔ مذکورہ نوجوان کو 19اکتوبر کو پنجاب پولیس اور ایس او جی جموں و کشمیر کی ایک مشترکہ کارروائی کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔ پولیس نے اُس وقت دعویٰ کیا تھا کہ انہوںنے انصار الغزوۃ الہند سے تعلق رکھنے والے چار نوجوانوں کو گرفتار کیاجن میں کشمیری طالب علم زاہد گلزار، محمد ادریس شاہ اور یوسف رفیق بٹ جن کو 10اکتوبرکو سی ٹی انسٹچیوٹ آف انجینئرنگ منیجمنٹ اینڈ ٹکنالوجی شاہپورہ جلندھر میں زیر تعلیم تھے جن کے قبضے سے ہتھیار اور گولہ بارود بھی برآمد کرنے کا پولیس نے دعویٰ کیا تھا اور اس کے نو روز بعد 19اکتوبر کومذکورہ طالب علم کو گرفتار کیا گیا تھا۔ این آئی نے مذکورہ نوجوانوں کے خلاف کیس درج کیا تھ اجس میںایجنسی نے لکھا تھا کہ دانش صوفی کی ممنوعہ تنظیم انصار الغزوت الہند کے ساتھ کسی طرح سے منسلک ہونے کے شواہد نہیں ملے ہے ۔ اس بناء پر این آئی اے عدالت نے ندیم یوصف کو گرفتار کرنے کے احکامات صادر کئے ہیں۔یاد رہے کہ گذشتہ برس اکتوبر میں جلندھر پولیس نے دعویٰ کیا تھا انہوںنے چار کشمیری نوجوانوں کو گرفتار کیا ہے جن کا تعلق انصارلغزوۃ الہند کے ساتھ ہے اور یہ نوجوان ذاکر موسیٰ کے قریبی رہے ہیں ۔

تبصرے
Loading...