جعلی ادویات کا کا کرروبار کرنے والوں کے خلاف کارروائی اجلاسوں تک محدود

ادویات کی قیمتیں کنٹرول کرنے کا نظام غیر مؤثر ہو گیا۔مہنگی ادویات خرید نہ سکنے کے باعث غریب مریض موت کو گلے لگانے پر مجبور

0 77

سرینگر: محکمہ صحت کے جعلی ادویات کا مکروہ دھندہ کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔دو سال گزر نے کے باوجود مگر مچھوں پر قانون کا شکنجہ نہیں ڈالا گیا۔ دریں اثنا وادی میں ادویات کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کا کوئی ٹھوس نظام موجود نہیں، پرائس مانیٹرنگ کا شفاف نظام نہ ہونے کی وجہ سے مارکیٹ میں ادویات کا مصنوعی بحران پیدا کرنا کمپنیوں کا وتیرہ بن چکا ہے۔ جے کے این ایس نمائندے کے مطابق جعلی ادویات کا کاروبار کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لانے کا اعلان صرف اجلاسوں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ نمائندے کے مطابق جعلی ادویات کاکاروبار کرنے والوں کے خلاف کر یک ڈاؤن صرف اعلیٰ شخصیات کو بہترکارکردگی ظاہرکرنا، سرکاری کاغذی کارروائی کا ایک ذریعہ ہی رہ گیا ہے جبکہ اس حوالے سے نہ تو کو ئی سپیشل عملہ تعینات کیا گیا، نہ ڈرگ انسپکٹر ز کی تعداد بڑ ھا ئی گئی اور نہ ہی کو ئی حکمت عملی ہے کہ جعلی ادویات تیار کر نے والی فیکٹریوں کے خلاف کارروائی کیسے کر نی ہے۔ محکمہ صحت کے افسروں نے ناکامیوں اور کوتا ہیوں کو چھپانے کے لیے صرف اجلاسوں پر فو کس کر لیا ہے جبکہ حقیقت میں اس حوالے سے محکمہ صحت کی کارکردگی صفر ہے۔دریں اثنا وادی میں پر ائس ما نیٹر نگ کا شفاف نظا م نہ ہو نے کی وجہ سے مارکیٹ میں ادویات کا مصنوعی بحران پیدا کر نا کمپنیوں کا وتیرہ بن چکا ہے۔ذرائع کے مطا بق ہربل اور یو نا نی ادویات سا زی کا کاروبار کر نے والی کمپنیوں پر تو حکو مت کا کنٹرول نہ ہو نے کے برابر ہے جبکہ ایلو پیتھک کمپنیوں کے لیے خاص طور پر ڈرگ ریگو لیٹر ی اتھارٹی قائم کر نے کے باوجود ابھی تک یہ اتھارٹی اپنی بقا کے لیے لڑ رہی ہے اور ابھی تک اس کا کو ئی مستقل سر براہ ہی تعینات نہیں کیا گیا ہے اور نہ ہی ضلع سطح پر کا م کر نے کے حوالے سے کو ئی نظام وضع کیا جا سکا ہے۔عوامی حلقوں کے مطابق واد ی کشمیر جعلی ادویات کی منڈی میں تبدیل ہو کر رہ گئی ہے، دوا ساز کمپنیوں کی جانب سے سرکاری اسپتالوں میں تعینات بعض ڈاکٹروں کو مہنگے تحائف دے کر جعلی ادویات بازاروں میں پہنچائی جار ہی ہے۔ عوامی حلقوں کے مطابق حکومت نے نئی ڈرگ پالیسی لاگو کرنے کا اعلان تو کیا تاہم اس پر کئی بھی عملدرآمد نہیں ہو رہا ہے اور سرکاری اسپتالوں میں تعینات کئی ڈاکٹر کمپنیوں کے ساتھ مل کر وادی کشمیر کے لوگوں کو مہلک بیماریوں میں مبتلا کرنے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے رہے ہیں۔ عوامی حلقوں کے مطابق جعلی ادویات کا کاروبار کرنے والوں کے خلاف صرف چالان کاٹنا کافی نہیں بلکہ انہیں پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت جیل منتقل کیا جائے۔

تبصرے
Loading...