تنازعہ کشمیر کے حل کیلئے ’’ ریفرنڈم ‘‘ناگزیر ،ہندوپاک مذاکرات کی بحالی کا فیصلہ بھارت کو کرنا ہوگا / قریشی

تاخیر مسئلہ کشمیر کا حل نہیں ،دونوں ممالک کو تنازعہ کشمیر کے حل کیلئے میں پیش رفت اور پہل کرنی ہوگی

0 36

سرینگر: پاکستان کے وزیر خارجہ نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کردیا کہ کشمیر مسئلے کو میز پر رکھے بنا ہندوپاک مذاکرات بے معنی اور غیر حقیقت پسندانہ ہونگے لہٰذا جب تک کشمیر بات چیت کے ایجنڈے میں نہیں ہوگا ہندوپاک مذاکرات نہیں ہوسکتے۔تاہم انہوں نے کہا کہ تنازعہ کشمیر کے حل کیلئے ریفرنڈم ناگزیر بن گیا ہے لہٰذا بین الاقوامی برادری کو بھی اب کشمیر میں شفاف بنیادوں پر ریفرنڈم کرانے کیلئے بھارت پر دباؤ بڑھانا ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے مذاکرات کی پیشکش ایک اچھے قدم کے طور پر کی تھی لیکن یکطرفہ طور پر کشمیری قیادت کو سائڈ لائن کرکے مذاکرات کا کوئی حاصل نہیں ہے ۔کرنٹ نیوز آف انڈیا مانیٹرنگ کے مطابق پاکستانی روزنامہ ڈان سے خصوصی گفتگو کے دوران پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہ ہندوپاک کے درمیان لائن آف کنٹرول پر صورتحال سنگین ہے اور یہ صورتحال تب ہی پیدا ہوئی جب بھارت نے یکطرفہ طور پر مذاکراتی عمل کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا ۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی ہائی کمشنر نے نے ماضی میں بھی کشمیری لیڈر شپ کے ساتھ بات چیت کی ہے اور ملاقاتیں کی ہیں تاکہ دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت کو یقینی بنایا جاسکے اور برصغیر میں بھی معاملات کو بہتر ڈھنگ سے نمٹا جاسکے ۔انہوں نے کہا کہ ہم مذاکرات کے خلاف نہیں ہیں اور نہ ہی مذاکرات کی بھیک مانگتے ہیں لیکن نیک نیتی کے ساتھ ہم نے بھارت کے سامنے مذاکرات کی پیشکش کی تھی ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان موجودہ صورتحال کے حوالے سے کافی فکر مند ہے اور عالمی برادری سے چاہتا ہے کہ وہ ا س صورتحال کا نوٹس لے تاکہ برصغیر کو بھاری تباہی سے بچایا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ سرحدوں پر کشیدگی ر وکنے کیلئے دونوں طرف سے حالات کو کنٹرول میں رکھنے کی کوشش کرنی ہوگی اور یہ صرف مذاکرات کے ذریعے ہی ہوسکتا ہے۔انہوںنے کہا کہ کشمیر مسئلے کے تین اہم فریق ہیں اور کشمیریوں کو پاکستان فریق اول کی حیثیت دے رہا ہے اور اس صورتحال میں بھارت کس طرح سے کشمیری قیادت کو سائڈ لائن کرسکتا ہے انہوں نے سخت لہجے میں کہا کہ بھارت ہماری مذاکرات کی پیشکش کو کمزوری نہ سمجھے۔انہوں نے واضح کر دیا کہ تاخیر مسئلہ کشمیر کا حل نہیں ہے بلکہ دونوں ممالک کو اس سلسلے میں پیش رفت اور پہل کرنا ہوگیا،انہوں نے صاف کردیا کہ ہم چاہتے ہیں کہ حالات کو بہتر بنانے کیلئے ہمیں مشترکہ طور پر کام کرنا ہوگا تاکہ کسی نتیجے پر پہنچ سکیں ۔سی این آئی مانیٹر نگ کے مطابق قریشی نے صاف کردیا کہ کشمیر مسئلے کو حل کرنے کیلئے دونوں ممالک کے درمیان کئی سالوں سے مذاکراتی عمل جاری ہیں اور اس سلسلے میں تریک ڈو ڈپلومیسی بھی جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے مسئلہ کشمیر کو باہمی مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی ازحد کوششیں کی ہیں لیکن اس کے باوجود بھی مسئلہ حل نہیں ہوا ۔لہٰذا بین الاقوامی برادری کو چاہئے کہ وہ مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کیلئے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔انہوں نے کہا کہ دو طرفہ مذاکرات سے کوئی بھی نتیجہ نہیں نکلا ہے اور یہ سلسلہ پچھلے کئی سالوں سے جاری ہے جس کے بعد اب یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ بین الاقوامی برادری مسئلہ کشمیر جیسے فلیش پوائنٹ پر اپنی ذمہ داریوں کو سمجھ کر پوری کرے کیونکہ کشمیر اب بین الاقوامی سطح کا مسئلہ بن گیا ہے اور پورا برصغیر اس مسئلے کی وجہ سے بارود کے ڈھیر پر کھڑا ہے ۔

تبصرے
Loading...