تنازعہ کشمیر کے حل کیلئے اور قیام امن کیلئے دفعہ 370کوختم کرنے ہی ہوگا/ ارون جیٹلی

عسکریت بھارت کیلئے سب سے بڑا چلینج جس کو ختم کرنے کیلئے سخت اقدامات اُٹھائیں گے

0 116

سرینگر: مرکزی وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے کہا ہے کہ تنازعہ کشمیر کا خاتمہ تب تک نہیں ہوسکتا جب تک نہ ریاست جموںو کشمیر سے دفعہ 370کو ختم کیا جائے گا۔ انہوںنے کہا کہ بھارت کے سامنے اس وقت سب سے بڑا چلینج ملٹنسی کا ہے اور اس کے خاتمہ کیلئے ایک مضبوط حکومت کی ضرورت ہے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق مرکزی وزیر خزانہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر لیڈر ارون جیٹلی نے آج سماجی ویب سائٹ فیس بُک پر ایک پوسٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جب تک نہ ریاست جموں و کشمیر کو حاصل خصوصی پوزیشن آرٹیکل 370کوختم کیا جائے گا تب تک ریاست میںقیام امن ناممکن ہے ۔ انہوںنے کہا کہ اس کیلئے ایک مضبوط حکومت ہے جو سخت سے سخت فیصلے لینے کی قابلیت رکھتی ہو۔ ارون جیٹلی نے کہ ماضی میں ہوئی غلطیوں کے سدھار سے ہی مسئلہ کشمیر مکمل طور پر حل ہوسکتا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ قومی سلامتی کو برقراررکھنے کیلئے بھارتیہ جنتا پارٹی کچھ اہم اور سخت فیصلے لینے والے والی ہے کانگریس نے ہمیشہ سے ہی قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالا جس کے نتیجے میں ملٹنسی نے جنم لیا۔ جیٹلی نے کہا کہ ہم بھارت میں ایک آئین چاہتے ہیں اور پورے ملک میں رہنے والے لوگوں کے حقوق یکساں ہونے چاہئے ۔ انہوںنے کہا کہ کشمیر معاملے پر پاکستان کو شور شرابہ اب بہت ہوچکا اب آگے اس بارے میں کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جایے گا۔ پوسٹ میں انہوںنے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ اس معاملے پر کوئی بات نہیں کی جائے گی اور ہماری توجہ اب کشمیر سے ملٹنسی اور علیحدگی پسندی کو ختم کرنا ہے جس کیلئے ہم اور زیادہ سخت اقدامات اُٹھائیں گے ۔ انہوںنے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ دفعہ 370کو ختم کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کانگریس کی ماضی کی غلطیوں سے پیدا ہوا جب پاکستان نے کشمیر کو بھارت کا حصہ ماننے سے انکار کیا تھا اور اگر اُس وقت کانگریس سرکار سخت اقدامات اُٹھاتی تو آج یہ تنازعہ نہیں ہوتا۔

تبصرے
Loading...