ترال میں دوسرے روز بھی ہڑتال سے معمولات زندگی درہم برہم

سرینگر/12مارچ/سی این آئی/ ترال کے پنگلش علاقے میں خونین معرکہ آرائی کے دوران دو جنگجو ئوں کی ہلاکت کے خلاف تعزیتی ہڑتال رہی جس کے نتیجے میں معمولات زندگی ٹھپ ہو کر رہ گئی ۔اسی دورا ن سرینگر کے صورہ او ر اس کے ملحقہ علاقوں میں بھی گزشتہ سال جاںبحق ہو ئے مقامی جنگجو کی پہلی برسی کے موقعہ پر ہڑتال سے معمولات زندگی متاثر رہی جبکہ سڑکوں سے ٹریفک کی نقل و حمل بھی غائب رہی ۔ سی این آئی کے مطابق سوموار کو پنگلش ترال میں خونین معرکہ آرائی کے دوران دو جیش جنگجو ئوںجن میں سے ایک مقامی تھا کی ہلاکت کے خلاف ترال میں دوسرے روز بھی تعزیتی ہڑتال سے معمول کی زندگی متاثر رہی ۔ نمائندے کے مطابق مکمل ہڑتال کی وجہ سے قصبہ میں دکانیں اور بازار بند رہے جبکہ تعلیمی اداروںمیں بھی تدریسی عمل متاثر رہا۔ نمائندے کے مطابق ہڑتال کے نتیجے میں پبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب رہا جس کے نتیجے میں یہاں ہو کا عالم دیکھنے کو مل رہا تھاجبکہ پُر تشدد مظاہروں کے پیش نظر ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر قصبے میں سیکورٹی کے غیر معمولی انتظامات کئے گئے تھے تاہم کس بھی جگہ سے کسی نا خوشگوار واقعہ کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ۔ ادھر ہڑتا ل کے بیچ مقامی مہلوک جنگجو کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے مختلف علاقوں سے لوگوں نے مڈورہ ترال کا رخ کیا اور مہلوک جنگجوئوں کو خراج عقید ت پیش کیا گیا ۔ ادھر گزشتہ سال آج ہی کے دن اننت ناگ کے مضافات میں ایک خونین معرکہ آرائی میں تین جنگجو جاں بحق ہو گئے تھے جن میںاعلیٰ تعلیم یافتہ احسن فضالی ساکنہ صورہ سرینگر بھی شامل تھا ۔ احسن فضالی کی پہلی برسی پر صورہ اورا س کے ملحقہ علاقوں میں منگل کو مکمل ہڑتال رہی جس کے نتیجے میں تمام تجارتی و کارو باری سرگرمیاں متاثر رہی جبکہ سڑکوں سے ٹریفک کی نقل و حمل بھی غائب رہی ۔

تبصرے
Loading...