بیرون ریاستوں سے کشمیری طالب علموں کو گھر صیح سلامت پہنچنے کیلئے رضاکارانہ تنظیمیں سرگرم

21

ہوائی کرایہ میں بے تحاشہ اضافہ کے بعد درجنوں طالبات کو ہوائی خدمات کے ذریعے کشمیر پہنچایا گیا

سرینگر: پلوامہ حملے کے بعد بیرون ریاستوں میں کشمیری طالب علموں پر حملے اور ان کی ہراسانیوں کے بعد جہاں سینکڑوں کی تعداد میں گھر واپس روانہ ہو گئے ہیں وہیں ہوائی کرایہ میں بے تحاشہ اضافہ کے باوجود رضاکارانہ تنظیم آرفن ان نیڈ نے درجنوں طالبات کو ہوائی خدمات کے ذریعے صیح سلامت اپنے گھروں کو پہنچایا ۔ سی این آئی کے مطابق پلوامہ حملے کے بعد جموں اور بیرون ریاستوں میں کشمیری طلبا کی ہراسانی اور ان پر حملوں کے بعد جہاں بیرون ریاستوں سے طلاب کی بڑی تعداد گھر واپس روانہ ہوئے ہیں وہیں کشمیر کی ایک مقامی این جی او ’’آرفن ان نیڈ ‘‘ نامی تنظیم نے جہاں سوموار کو جموں سے سوسے زائد کشمیری طلاب کو صٰح سلامت گھر پہنچا دیا ۔وہیں بدھ کو بیرون ریاستوں کے مختلف کالجوں میں زیر تعلیم درجنوں طالبات کیلئے ہوائی جہاز کا انتظام کرکے ان کو کشمیر پہنچایا گیا ۔ معلوم ہوا ہے کہ ہوائی کرایہ میں بے تحاشہ اضافہ کے باوجود آرفن ان نیڈ نے رضاکارانہ تنظیم نے درجنوں کشمیری طالبات کیلئے ہوائی ٹکٹس مہیا کرائی اور ان کو صیح سلامت گھر پہنچ دیا ۔ خیال رہے کہ منگل کو انہوں نے سرینگر سے ایک بس جموں روانہ کی جس دوران انہوں نے وہاں درماندہ سو سے زائد کشمیری طلب کو مفت میں اپنے خرچے پر کشمیر واپس پہنچا دیا جس کے بعد انہیں اپنے گھروں کی طرف روانہ کیا گیا ۔ تنظیم کے چیرمین شیخ انیس موسیٰ نے سی این آئی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں جموں اور بیرون ریاستوں سے سینکڑوں کی تعداد میں فون کالز موصول ہوئی جس میں طلبہ کی بڑی تعداد نے مدد کیلئے کہا ۔ انہوں نے بتایا کہ فون کالز موصول ہونے کے بعد انہوں نے یہ فیصلہ لیا کہ جموں ایک گاڑی روانہ کی جائیگی ۔انہوں نے بتایا کہ ’’آرفن ان نیڈ ‘‘ کی طرف سے ایک بس جموں روانہ کی گئی جہاں سے 1سو سے زائد کشمیری بچوں کو کشمیر پہنچایا گیا اور بعد میں انہیں اپنے گھروں کی طرف روانہ کیا گیا ۔انہوں نے بتایا کہ اس کے علاوہ بدھ کو درجنوں طالبات جو بیرون ریاستوں کے مختلف کالجوں میں زیر تعلیم تھی کیلئے ہوائی ٹکٹس کا انتظام کیا گیا جس کے بعد ان کو گھر واپس پہنچایا گیا ۔ انہوں نے بتایا کہ ہماری تنظیم ضرورت مندوں کیلئے ہمیشہ ہمیشہ پیش پیش ہے اور جہاں کہیں بھی کسی کو ضرورت ہوگی تو وہ ہم سے رابطہ کر سکتا ہے ، انہوں نے بتایا کہ بیرون ریاستوں میں کشمیری طالب علموں کو ہراساں کرنے کے معاملے کے بعد جب کوئی بھی تنظیم ان کی مدد کیلئے آگئے نہیں آئی تو ہم نے ان بچوں کو صیح سلامت کشمیر پہنچانے کیلئے کارروائی شروع کی اور اس میں ہم کامیاب ہو گئے ۔انہوں نے بتایا کہ بیرون ریاستوں میں مقیم کشمیری طالب علموں کو کسی بھی پریشانی کا شکار نہیں ہونے دیا جائے گاا ور جس کسی کو بھی کوئی ضرورت ہو گی تو وہ براہ راست ’’آرفن ان نیڈ ‘‘ سے رابطہ کر سکتا ہے اور ان کی بھر پور مدد کہ جائے گی ۔

تبصرے
Loading...