بھیداور سفیدوں کے درختوں کو جی ایس ٹی کے ذمرے میں لانا غریبوں کے ساتھ ناانصافی

اپنے صحنوں اور باغات میں اُگے درختوں کو فروخت کرنے پر جی ایس ٹی عائد کرنا حق پر شب خون مارنے کے مترادف

0 78

سرینگر/ درختوںکے کاٹنے اورانہیں فروخت کرنے پر جی ایس ٹی عائد کرنے کیخلاف لوگوں میں سخت غم وغصہ کی ہر پائی جارہی ہے ۔ لوگوںنے کہا کہ درخت لوگوں کو اپنی ملکیت پر لگے ہوتے ہیںاور جب ان کو فروخت کرنے کا وقت آتا ہے تو جی ایس ٹی عائد کرنے سے انکے حق پر شب خون مارنے کے مترادف ہے جبکہ یہ غریب عوام پر سراسر ظلم ہے ۔کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق لوگوںکے صحنوں اور باغات میں لگے درختوں پر جی ایس ٹی عائد کرنے سے غریب عوام کو مشکلات میں دھکیل دیا گیا ہے ۔ معلوم ہوا ہے کہ سرکار نے بھید اور سفیدے کے درختوں کو بھی جی ایس ٹی کے ذمرے میںلایا ہے اور اگر کسی کے صحن یا باغات میں سفیدے یا بھید کے درخت لگے ہیں ان کو فروخت کرنے کے وقت ان پر جی ایس ٹی عائد ہوتا ہے ۔ لوگوںنے کہا ہے کہ بھید اور سفیدوں کے درخت کا کاروبارکرنے والے اکثر لوگ پسماندہ اور غریب طبقات سے جڑے ہیں اور ان پر جی ایس ٹی عائد کرنے ان کے حق میں شب خون مارنے کے مترادف ہے ۔ ادھر معلوم ہوا ہے کہ گذشتہ روز علاقہ شاہ بگ گاندربل میں سندھ ویلی ووڈ سپلائرس یونین نے بھید اور سفیدوں کے درختوں کو جی ایس ٹی میں لانے پر سخت احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ مذکورہ درختوں کو جی ایس ٹی سے مستثنیٰ رکھا جائے ۔ انہوںنے کہا کہ اس سے غریب عوام منسلک ہیں جن کے صحنوں اور زمینوں پر بھید اور سفیدے کے درخت لگے ہیں اور ان کو فروخت کرنے پر انہیں کچھ فائدہ پہنچتا ہے تاہم سرکار غریب عوام کے ساتھ ناانصافی کررہی ہے کیوں کہ بھید سے نکلنے والی لکڑی بالن کے بطور استعمال کی جاتی ہے جو غریب مزدوروں کا روزی روٹی کا ذریعہ ہے ۔( سی این آئی )

تبصرے
Loading...