بھارت پاکستان کیساتھ بہترین تعلقات کا حامی لیکن دہشت گردی بڑی رکاوٹ / رویش کمار

سرحد پار سے تشدد کو بھڑکانے کا کام بدستور جاری ، ایسی صورتحال میں مذاکرت ممکن نہیں

0 50

سرینگر: پاکستان پر بھارت میں دہشت گردی کو ہوا دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے مرکزی وزارت خارجہ ترجمان نے واضح کردیا کہ پاکستان کو دہشت گردی کیلئے جنت بننے نہیں دیا جائے گا ۔پاکستان کو اب ان کے خلاف پوری قوت کے ساتھ کاروائی کرنا ہوگی تاکہ پاک بھارت مذاکرات کیلئے پرامن ماحول فراہم ہوسکے ۔کرنٹ نیوز آف انڈیا مانیٹرنگ ڈیسک کے مطابق مرکزی وزارت خارجہ ترجمان رویش کمار نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کو دہشت گردی کیلئے مشترکہ کوششیں کرنا ہوگی اور یہ کام پاکستان کو ترجیحی بنیادوں پر کرنا ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ جب جب بھی دونوں ممالک کے درمیان خوشگوار تعلقات قائم ہوجاتے ہیں تو ایسے عناصرمل کر ان حالات کو خراب کرنے کی کوشش شروع کردیتے ہیں ۔جسکی وجہ سے صورتحال پھر مکدر ہوجاتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ کچھ طاقتیں ایسی ہیں جو بھارت اور پاکستان کو ایک دوسرے کے قریب آنے نہیں دینگے ۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کو پاکستان ہوا دی رہا ہے اور بھارت میں دہشت گردی کو بھڑکانے کی کوشش کر رہا ہے ۔مزید بتاتے ہوئے کہا کہ حالات چاہے کچھ بھی ہو ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ ملنا ہی ہے لیکن خاموش ماحول میں امن کی باتیں ہوسکتی ہیں جبکہ تشدد کے ماحول میں امن کی باتیں نہیں ہوسکتی ہیں ۔انہوں نے صاف کردیا کہ بھارت کی موجودہ حکومت پاکستان کے ساتھ آگے بڑھنا چاہتی ہے ۔سی این آئی مانیٹرنگ کے مطابق رویش کمار نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خاتمے کیلئے بھارت سے کئی وعدے کئے مگر حقیقت میں وہ آج بھی دہشت گردی کو بھارت کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان برابر بھارت مخالف کاروائیوں کا مرتکب ہورہاہے اب اپنا وطیرہ بدلنا ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی طرف سے جنگ بندی کے خلاف ورزیاں اب معمول بن گئی ہیں کیونکہ جہاں پہلے صرف لائن آف کنٹرول پر فائرنگ ہورہی تھی لیکن اب بین الاقوامی بارڈر پر بھی بندوقوں کے دہانے کھول دئے گئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ بھارت مخالف کاروائیوں سے پاکستان کو کچھ حاصل نہیں ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ کچھ طاقتیں نہیں چاہتی کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات بہتر ہوں تاہم اس قسم کی صورتحال کیلئے پاکستان ذمہدار ہے اس لئے اس پر یہ ذمہ داری عائد ہوجاتی ہے کہ حالات خراب کرنے کی کوششوں کو ہوا نہ دیں بلکہ ایسی طاقتوں کو بے نقاب کرے جو دونوں ملکوں کے درمیان حالات ٹھیک ہوتے دیکھنا نہیں چاہتے ہیں ۔

تبصرے
Loading...