بچہ مزدوری کا عالمی دن:وادی میں چائلڈ لیبر کو روکنے کیلئے کوئی اقدام نہیں

بچہ مزدوری کے بڑھتے رجحان پر عوامی حلقو ں میں تشویش کی لہر

0 24

سرینگر/12جون/سی این آئی/ جہاں 12جون کو ہر برس عالمی سطح پر بچہ مزدوں کا دن منایا جاتا ہے جس میں لوگوں کو بچہ مزدوری سے سماجی سطح پر پیدا شدہ صورتحال پر لوگوںکو جانکاری فراہم کی جاتی ہے تاہم وادی میں بچہ مزدوری پر اگرچہ سرکار کی جانب سے پابندی عائد ہے تاہم شہر سرینگر سمیت وادی کے دیگر قصبہ جات میں مختلف کارخانوں اور دکانات و نجی دفتروں میں چھوٹے بچوں سے کام کرائے جانے کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور بچوں کی فلاح و بہبود کیلئے کام کررہے این جی اوز اور دیگر متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں ۔ بچوں کو تعلیم فراہم کرنے کے بجائے ان سے کام کروانے سے سماج کو آگے چل کر مختلف سماجی بُرائیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق عالمی سطح پر 12جون کو بچہ مزدوری کا دن منایا جاتا ہے تاہم وادی میں بچہ مزدوری پر اگرچہ سرکار کی جانب سے پابندی عائد ہے اور کسی کو بھی چھوٹے بچوں سے کام کروکر ان کے تعلیمی مستقبل کو مخدوش بنانے کی اجازت نہیں ہے ۔ تاہم وادی میں بچوں سے کام کرانے کا سلسلہ جاری ہے ۔ شہر سرینگر سمیت وادی کے دیگر قصبہ جات میں بچوں کو مختلف کارخانوں میں کام کرایا جارہا ہے ۔ جن بچوں کی عمر سکول جانے کی ہے انہیں دکانوں کارخانوں و نجی دفاتر میں چائے بنانے صفائی اور دیگر چھوٹے بڑے کاموں پر لگایا گیا ہے ۔ دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والے بچے شہر سرینگر میں مختلف کاموں میں لگے ہوئے ہیں بچوں سے مزدوری کا کام لیا جاتا ہے ۔ ریڈوں پر ان سے میوہ جات اور دیگر اشیاء فروخت کروائی جارہی ہے ۔ کئی بچے مختلف کارخانوں میں گاڑیوں کی میکنک کا کام لیا جاتا ہے ۔ اس کیلئے اگرچہ کئی غیر سرکاری تنظیمیں مورد وجود میں آئی ہیں جو بچوں سے کام کرنے والوںکے خلاف کارروائی کرتے ہیں تاہم وادی میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے مذکورہ ادارے بچوں کے ساتھ کیا جانے والا استحصال خاموشی سے دیکھ رہے ہیں ۔ جس کے نتیجے میں ایسے غریب اور بے سہارا بچوں کا تعلیمی مستقبل خطرے میں پڑگیا ہے ۔ اس ضمن میں کئی نامور شخصیات سے جب بات کی گئی تو انہوںنے اس پر افسوس کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ جس سماج میں بچوں کو تعلیم فراہم کرنے کے بجائے ان سے کام لیاجاتا ہے آگے چل کر یہ سماج بڑی تباہی کادیکھ سکتا ہے کیوں کہ جس قدر سماج میں رہے رہ بچے ذہین تعلیم یافتہ اور بااخلاق ہونگے اُسی قدر سماج مختلف سماجی بُرائیوں سے پاک ہوتا ہے ۔ جن بچو ں سے بچن میں ہی کام لیا جاتا ہے وہ اکثر غلط ہاتھوں کے میں پڑجانے سے مختلف بُرائیوں میں مبتلاء ہوجاتے ہیں نتیجتا سماج میں بُرائیاں جڑ پکڑتی ہے ۔ بچہ مزدوری پر قابو پونے کیلئے اگرچہ عالمی سطح پر کئی این جی اوز کام کررہی ہیں اور سرکاری سطح پر بھی اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں تاہم وادی کشمیر میں بچوں کے حق میں کوئی بھی تنظیم یاادارہ کام نہیں کررہا ہے ۔

تبصرے
Loading...