’’بلڈ پریشر ‘‘ایک خاموش قاتل مرض ہے ۔ ڈاکٹر نثا الحسن

اس کو کنٹرول کرنے کی گولی صبح کے بجائے رات کو لینا زیادہ بہتر

0 109

سرینگر: بلڈ پریشر کی ادویات سوتے وقت لینے سے دل کے دورہ اور دماغ کی نس پھٹنے کے خطرات بہت کم ہوجاتے ہیں ۔ سوتے وقت بلڈ پریشرکی دوائی لینے سے بلڈ پریشر کنٹرول میں اور زیادہ رہتا ہے بنسبت صبح دوائی لینے کے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کے پریذیڈنٹ ڈاکٹر نثارالحسن نے کہا ہے کہ اکثر لوگ بلڈ پریشرکی دوائی صبح کے اوقات لیتے ہیں جبکہ ایک سروسے میں دیکھا گیا ہے کہ جو لوگ صبح کو بلڈ پریشر کی گولی لیتے ہیں ان میں دل کا دورہ پڑنے اور سٹروک کے واقعات میں زیادہ رجحان بڑھ جاتا ہے بنسبت اُن مریضوں کے جو بلڈ پریشرکی دوائی رات کو سونے سے پہلے لیتے ہیں ۔ انہوں نے بیان میں کہا ہے کہ رات کو سونے سے پہلے دوائی لینے سے مریض ہاٹ اٹیک اور سٹروک سے بچ سکتے ہیں ۔ ’’ورلڈ ہاءپرٹنشن ڈے ‘‘پر ڈاکٹر نثار الحسن نے کہا کہ بلڈ پریشر 24گھنٹوں ردھم میں دن کو زیادہ پریشر رہتا ہے اور رات کو کم تاہم ہائی بلڈ پریشر رات میں زیادہ دکھاتا نہیں ہے اس ’’نان ڈپنگ‘‘ میں خون کے دباءو میں زیادتی سے ہارٹ اٹیک اور سٹروک کا خطرہ زیادہ رہتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایک سٹیڈی کے مطابق بلڈ پریشر کے مریضوں کو رات کے وقت دوائی دینا بہتر ہے ۔ انہوں نے ایسے مریضوں کو مشورہ دیا ہے کہ اگر آپ دن میں بلڈ پریشر کی ایک گولی لیتے ہو تو اس کو شام کے وقت لینا چاہئے اور اگر آپ ایک سے زیادہ گولیاں لیتے ہو تو ان میں سے ایک رات کو سونے کے وقت لی جائے ۔ ڈاکٹر نثار الحسن نے کہا کہ ہاءپر ٹنشن ایک خاموش قاتل ہے ۔ اسلئے اس کےلئے احتیاط بہت ضروری ہے ۔ بہت سے لوگ یہ نہیں جانتے کہ انہیں بلڈ پریشر زیادہ رہتا ہے کیوں کہ خون کے دباءو میں زیادتی کی کوئی نشانی نہیں ہے اوراکثر لوگوں کو اس کا علم تب ہوتا ہے جب انہیں دل کا دورہ پڑتا ہے ۔ جبکہ اکثر مریضوں کا علاج ہی نہیں ہوپاتا کیوں کہ ان کا دھیان اس طرف جاتا ہی نہیں ہے ۔ ڈاکٹر نثار الحسن نے کہا کہ بلڈ پریشر کے حوالے سے لوگوں کو احتیاط برتنا ہوچاہئے نہ کہ اس کو نظرانداز کریں ۔ اس حوالے سے لوگوں میں جانکاری فراہم کرنا اہم ہے اور عالمی ہاپرٹنشن دن کے حوالے سے اس دن لوگوں کو بلڈ پریشر کے متعلق جانکاری فراہم کرنا معالجین کا فرض منصبی ہے ۔

تبصرے
Loading...