این آ ئی اے کی آ مد کو کانگریس اور نیشنل کانفرنس مخلوط سرکار کی دین: محبوبہ مفتی

41

بھارت کے عام انتخابات کشمیریوں کیلئے آفت اور ظلم و ستم کی فضا لیکر آتے ہیں

سرینگر: ریاست میں قومی تحقیقاتی ا یجینسی( این آ ئی اے) کی آ مد کو کانگریس اور نیشنل کانفرنس مخلوط سرکار کی دین قراردیتے ہوئے پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے کہا کہ بھارت کے عام انتخابات کشمیریوں کے لیے آفت اور ظلم و ستم کی فضا لیکر آتے ہیں،2014 کے عام انتخابات سے قبل کانگریس نے محمد افضل گورو کو ووٹ حاصل کرنے کیلئے پھانسی پر لٹکایا تھا جبکہ آج کے انتخابات کے لئے پکڑ دھکڑ وجماعت اسلامی ودیگر مولویوں کوتختہ مشق بنایا جارہا ہے۔سی این ایس کے مطابق بانڈی پورہ میں پارٹی کنونش سے پارلیمانی چناو کے سلسلے میں مہم کا آغاز کرتے ہوئے پی ڈی پی پارٹی کے صدر محبوبہ مفتی نے کہا کہ این آئی اے) کو 2009میں کانگریس اور نیشنل کانفرنس مخلوط سرکار نے ریا ست پر سوار کر دیا اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آ ج وہ پوری طرح سے ریاست کے کسی بھی خطے میں اپنی سرگرمی انجام دے سکتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اس وقت ہم اپوزیشن میں تھے لیکن پی ڈی پی نے اسکی کھل کر مخالفت کی تھی۔ بی جے پی کے ساتھ سابقہ اتحاد کے بار ے میں محبوبہ مفتی کا کہنا تھا کہ مرحوم مفتی محمد سعید کے انتقال کے بعد بی جے پی کے ساتھ حکومت سازی کا کوئی ارادہ نہیں تھا نہ میں حکومت تشکیل دینے کے لیے تیار تھی جب میرے قریبی سا تھی حکومت سازی کے معاملے میں ناگپورچلے گئے تو میں زہر کی گھونٹ پینے پر مجبورہوئیں۔ ہند وپاک کشیدگی پر بولتے ہوئے پی ڈی پی کے صدر محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس وقت ایک بار پھر مسئلہ کشمیر لٹکنے سے ہندوستان پاکستان جنگ کے دہانے پر ہے اور باہری دباؤ کی وجہ سے دونوں ملکوں کے مابین جنگ ٹلا ہوا ہے ۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سے قبل بھی اٹل بہاری واجپائی کے دور میں مرحوم مفتی کے کوششوں سے دونوں ملکوں کے درمیان جنگ ٹلا اور بات چیت کا دور شروع ہوا تھا راستے کھلے حریت والوں کو جیلوں سے رہا کیا گیا حریت کے ساتھ بات چیت ہوئی لیکن بھر این سی کانگریس مخلوط حکومت وجود میں آگئی یہ سلسلہ تھم گیا۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ بجلی پانی سڑک وروزگار اپنی جگہ لیکن اس وقت سب سے اہم حل طلب مسئلہ کشمیر ہے جو ایٹمی جنگ کا باعث بھی بن سکتا ہے اور اس حل طلب مسئلے سے کشمیری مرتے مٹتے اور عتاب کا شکار ہوجاتے ہیں پس اس دیرینہ لٹکتے مسئلے کے حل کیلئے ہند وپاک اور کشمیری کے مابین بات چیت کے لئے سیاسی طور پر کوشش ہونی چاہیے ۔محبوبہ مفتی نے کہا تعمیروترقی اور مار دھاڑ ایک ساتھ ہونے سے جموں و کشمیر کے لوگ بہت زیادہ سفر کررہے ہیں اس لئے تعمیر وترقی کے ساتھ بات چیت کی فضا قائم کرنے کے لیے سیاسی کوششیں لازمی بن گئی ہے ۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ بھارت کے عام انتخابات کشمیریوں کے لیے آفت اور ظلم و ستم کی فضا لیکر آتے ہیں2014 کے عام انتخابات سے قبل کانگریس نے محمد افضل گورو کو ووٹ حاصل کرنے کے لیے پھانسی پر لٹکایا تھا جبکہ آج کے انتخابات کے لئے پکڑ دھکڑ وجماعت اسلامی ودیگر مولویوں کوتختہ مشق بنایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نظریاتی اختلاف جمہوری نظام کا حصہ ہے لیکن ان پر عتاب کرنا یا اوچھے ہتھکنڈوں کاسہارا لینا جمہوری نظام کے منافی ہے آخر میں اپنے نامزد پارلیمانی امیدوار کے حق میں ووٹ ڈالنے کی اپیل کی ہے ۔نمائند ے کے مطابق اس کنونشن میں بھاری تعداد میں کارکنوں نے شرکت کی ہے کنونشن کو ضلع صدر بانڈی پورہ غلام نبی تانترے نظام الدین بٹ سابق وزیر جنرل سیکرٹری پی ڈی پی ایڈووکیٹ حق خان پارلیمانی امیدوار بارہمولہ کپوارہ بانڈی پورہ عبدالقیوم وانی ودیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا ہے۔

تبصرے
Loading...