ایران عالمی جوہری معاہدے سے دستبردار، یورینیم افزودگی کی دھمکی

اپنے فیصلے سے متعلق ایران نے یورپی یونین کو خطوط ارسال کئے

0 91

سرینگر: ایران نے عالمی قوتوں سے کیے گئے جوہری معاہدے کے ایک حصے سے دستبرداری کا فیصلہ کرتے ہوئے یورینیم افزودگی کے عمل کی بحالی کی دھمکی دی ہے۔کرنٹ نیوز آف انڈیا مانیٹرنگ کے مطابق کے مطابق ایران نے جوہری توانائی سے متعلق ملکی سرگرمیوں کو محدود رکھنے کے لے چھ عالمی طاقتوں کے ساتھ کیے گئے ’جوہری معاہدے 2015‘ کی اْس شق سے دستبردار ہونے کا اعلان کیا ہے جس میں ایران پر جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے لیے یورینیم افزودگی پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ایران نے ’جوہری توانائی معاہدے 2015‘ کے فریقین برطانیہ، چین، فرانس، جرمنی اور یورپییونین کو اپنے فیصلے سے آگاہ کرنے کے لیے خطوط ارسال کر دیئے ہیں، ایران نے ان خطوط میں فریق ممالک سے ایرانی بینکنگ اور خام تیل کی تجارت سے متعلق کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے کے لیے 2 ماہ کی مہلت دی ہے۔ایرانی صدر حسن روحانی نے قومی ٹیلی وڑن پر اس اہم فیصلے سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر عالمی قوتوں کو دی گئی 60 روز مہلت کے دوران مطالبات پر عمل درآمد نہیں کیا گیا تو ایران یورینیم افزودگی کے اپنے پروگرام کو بحال کردے گا اور اب ایران اسے فروخت کرنے کے بجائے اپنے ملک میں ہی محفوظ رکھے گا۔صدر حسن روحانی نے مزید کہا کہ اگر امریکا کے دباو میں آکر عالمی جوہری معاہدے کے فریق ممالک ایران سے کیے گئے وعدے پورے نہیں کرسکتے اور ایران کو معاہدے کے تحت حاصل فوائد نہیں پہنچا سکتے تو ایران بھی معاہدے پر عمل درآمد کے لیے پابند نہیں ہوگا۔گزشتہ برس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی جوہری معاہدے سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے ایران پر سخت اقتصادی پابندیاں عائد کردی تھیں تاہم دیگر فریقین نے معاہدے کی توسیع کردی تھی جس پر امریکا نے ان ممالک پر ایران سے تجارتی تعلقات ختم کرنے کے لیے دباوبڑھا دیا تھا۔واضح رہے کہ ایران کو یورینیم افزودگی سے روکنے کے لیے عالمی قوتوں امریکا، برطانیہ، چین، فرانس، جرمنی اور یورپی یونین نے ایران کے ساتھ عالمی جوہری معاہدہ 2015 طے کیا تھا جس کے تحت ایران جوہری توانائی کو ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کے لیے استعمال نہ کرنے کی ضمانت دے گا جس کی بنیاد پر ایران کو جوہری توانائی کو برا?مد کرنے کی بھی اجازت ہوگی۔

تبصرے
Loading...