اُس پار سے آ نے والی ہر گولی کا بھر پور جواب دیا جائے گا

بی ایس ایف کو پاکستان کی ہر کارروائی کا کھل کر جواب دینے کی اجازت /مرکزی وزیر دفاع

0 33

سرینگر/// پاکستان کے نام ایک مربتہ پھر سخت پیغام دیتے ہوئے نو منتخب مرکزی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے کہا کہ سرحدوں پر پاکستان نے گولی باری کا سلسلہ بند نہ کیا گیا تو اُس پاس سے آنے والی ہر گولی کا کرارجواب دیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی طرف سے اب جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیوں کی انتہائی ہو گئی ہے اور بھارت اب اس کو زیادہ دیر تک برداشت نہیں کیا جا سکتا ہے ۔ سی این آئی مانیٹرنگ کے مطابق سرحدی کشیدگی پر نئی دہلی میںایک تقریب کے دوران میڈیا نمائندوں کے سوالوں کے جواب میں وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے ایک مرتبہ پھر پاکستان کو جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیوں کا مرتکب قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت نے پاکستان کے ساتھ معمول کے تعلقات بنانے کی ہر کوشش کی ہے لیکن پڑوسی ملک اپنے ہتھکنڈوں سے باز نہیں آ رہا ہے اور سلامتی دستہ کو اس کی ہر کارروائی کا مناسب جواب دینا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ ملک کی سرحدوں کی حفاظت کرنا بارڈر سکیورٹی فورس کی ذمہ داری ہے اور اس ذمہ داری کو پورا کرنے میں کوئی رکاوٹ یا سرحد آڑے نہیں آ سکتی۔ انہوں نے کہا کہ جوابی کارروائی پر کسی سے کوئی سوال جواب نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ” پاکستان کی اس پینترے بازی کی وجہ کیا ہے یہ سمجھنا مشکل ہے۔ یہ ریسرچ کا موضوع ہو سکتا ہے لیکن وہ اپنی حرکتوں سے باز نہیں آتا۔ پہلے گولی تو پڑوسی پر نہیں چلنی چاہئے لیکن اگر ادھر سے چل جاتی ہے تو کیا کرنا ہے اس کا فیصلہ آپ کو کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ہر کارروائی کا بھر پور جواب دیا جائے گا اور وہاں سے آنے والی ہر گولی کا جواب دس گولیوں سے دیا جائے گا ۔ راجناتھ نے کہا کہ سرحدی حفاظتی فورسز صبر و تحمل سے کام لے رہی ہے تاہم پاکستان اس کا فائدہ اٹھا کر مسلسل جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرکے شہری آبادی کو نشانہ بنا رہی ہے جس کے نتیجے میں انسانی جانوں کا زیاں ہوتا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو سمجھنا چاہئے کہ اس طرح کی کارروائی کو زیادہ دیر تک بر داشت نہیں کیا جائے گا اور یہ سلسلہ بند نہ کیا گیا تو بھارت کی طرف سے ہر کارروائی کی جائے گی ۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ لائن آف کنٹرول پر گزشتہ کئی دنوں سے ہلاکت خیز گولہ باری اور شلنگ کے نتیجے میں جنگ جیساں سماں بنا ہو ا ہے ۔( سی این آئی )

تبصرے
Loading...