انتخابات میں بھی نظر آیا بالی ووڈ ستاروں کا جلوہ

0 83

نئی دہلی،11اپریل(یواین آئی)اپنی اداکاری سے لوگوں کے دلوں پر راج کرنے والی بالی ووڈ ہستیاں انتخابی میدان میں بھی اپنے جلوے دکھانے میں پیچھے نہیں رہی ہیں اور انہوں نے کئی بار سیاست کی بڑی بڑی شخصیات کو پچھاڑا ہے ۔مقبولیت اور لوگوں کی پسندیدگی کی بدولت انتخابی سیاست میں اپنا اثر دکھانے والے بالی وود اداکاروں میں سنیل دت ،امیتابھ بچن،ہیمامالینی،ونود کھنہ،شتروگھن سنہا،راجیش کھنہ،دھرمیندر ،جیاپردا،راج ببر،گووندا،سمریتی ایرانی،پریش راول،کرن کھیرشامل ہیں۔70کی دہائی میں اس کی وقت کی وزیراعظم اندرا گاندھی کے ذریعہ ملک میں ایمرجنسی لگائے جانے پر دیگر علاقوں کی طرح بالی ووڈ کے لوگ بھی ایمرجنسی کی مخالفت میں سامنے آئے ۔مشہور اداکار دیو آنند نے بالی ووڈ کے ساتھی اداکاروں اور حامیوں کے ساتھ 1977میں حکومت کے خلاف کھل کر تشہیر کی۔دیو آنند نے سیاست میں فعال حصہ داری کی مقصد سے ایک نئی سیاسی پارٹی‘نیشنل پارٹی’ بھی تشکیل دی۔حالانکہ اس پارٹی کو امید کے مطابق کامیابی حاصل نہیں ہوئی اور بعد میں یہ ختم ہوگئی۔انتخابی میدان میں اپنی قسمت آزمانے والوں میں مشہوراداکار سنیل کا نام سرفہرست لیاجاتا ہے ۔فلموں کے علاوہ سماجی خدمت کے شعبہ میں ان کے قابل قدر تعاون کے پیش نظر مہاراشٹر حکومت نے انہیں ایک سال کے لئے ممبئی کا شیرف بھی مقرر کیاتھا۔سنیل دت 1984میں کانگریس میں شامل ہوئے اور ممبئی شمال مغربی لوک سبھا سیٹ کی پانچ بار نمائندگی کی۔وہ مرکز کی من موہن حکومت میں کھیل اور نوجوانوں کی فلاح و بہبودی کے امور کے وزیر بھی رہے ۔ان کے انتقال کے بعد خالی ہوئے لوک سبھا سیٹ پر 2005 میں ہوئے ضمنی انتخابات میں محترمہ پریا دت منتخب ہوئیں۔سابق وزیراعظم راجیو گاندھی کے دوست رہے مشہور اداکار امیتابھ بچن اپنے دوست کا ساتھ دینے کے لئے سیاست میں اترے اور کانگریس میں شامل ہوئے ۔کانگریس نے انہیں 1984 کے الیکشن میں ہیموتی نندن بہوگنا کے خلاف میدان میں اتارا۔لیکن پردہ سیمیں پر اپنی اداکاری سے شائقین کو دیوانہ بنانے والے امیتابھ بہوگنا کے سامنے نہیں ٹک پائے اور الیکشن ہارگئے ۔حالانکہ ان کا سیاسی کریئرطویل نہیں رہابوفورس توپ گھپلے میں نام گھسیٹے جانے سے امیتابھ اتنے دل برداشتہ ہوئے کہ انہوں نے رکن پارلیمنٹ کے طور پر اپنی مدت پوری ہونے سے پہلے ہی استعفی دے دیا۔سیاسی ماہرین کو شکست دینے کے لئے کانگریس نے ایسا ایک تجربہ دارالحکومت دہلی میں کیا۔سال 1991 میں نئی دہلی لوک سبھا سیٹ کے لئے الیکشن میں کانگریس نے بی جے پی کے قد آور لیڈر لال کرشن اڈوانی خلاف مشہور اداکار راجیش کھنہ کو امیدوار بنایا۔دونوں کے درمیان زبردست ٹکر ہوئی لیکن قسمت نے مسٹر اڈوانی کا ساتھ دیا۔اسی سیٹ پر 1992 میں ہوئے ضمنی انتخابات میں بی جے نے بھی کانگریس کی چال چلتے ہوئے راجیش کھنہ کے خلاف اداکار شتروگھن سنہا کو میدان میں اتارا لیکن راجیش کھنہ نے انہیں 25ہزار سے زیادہ ووٹوں سے ہرا دیا۔بی جے پی نے شتروگھن سنہا کا ہاتھ یہیں نہیں چھوڑا بلکہ 2009 میں بہار کی پٹنہ صاحب لوک سبھا سیٹ سے انہیں اپنا امیدوار بنایا۔یہاں بھی ان کے سامنے ایک اور اداکار شیکھر سمن تھے ۔اس بار شروگھن نے بازی مارلی اور انہوں نے شیکھر سمن کو ہرا دیا۔2014 میں بھی اس سیٹ پر ان کا قبضہ رہا۔وہ مسٹر اٹل بہاری واجپئی کی حکومت میں صحت اور خاندان کے فلاح و بہبود کے وزیر ہونے کے علاوہ جہاز رانی کے وزیر بھی رہے اور بی جے پی کی ثقافت اور فن سیل کے سربراہ بھی رہے ۔مرکزی قیادت کے تئیں ان کے مخالف نظریے کے پیش نطر اس بار بی جے پی نے پٹنہ صاحب سے انہیں ٹکٹ نہیں دیا اس لئے شتروگھن سنہا نے پارٹی چھوڑ دی اور کانگریس میں شامل ہوگئے ۔وہ اسی سیٹ سے اب کانگریس کے امیدوار ہیں۔ایک اور مشہور اداکار ونود کھنہ نے بھی اپنی قسمت میں سیاست میں آزمائی ۔انہوں نے پنجاب کے گرداسپور لوک سبھا علاقے سے چار بار 1998،1999،2004 اور 2014 میں انتخابات میں جیت حاصل کی۔جولائی 2002 میں وہ واجپئی حکومت میں ثقافت اور سیاحت کے وزیر بنے اور چھ مہینے بعد وزارت خارجہ میں وزیر مملکت بنائے گئے ۔فلمی دنیا سے آئے راج ببر بھی انتخابی میدان میں پیچھے نہیں رہے ۔1989میں انہوں نے جنتا دل کے ساتھ سیاست میں قدم رکھا لیکن بعد میں سماجوادی پارٹی میں شامل ہوگئے ۔سماجوادی پارٹی نے 1999اور 2004 میں آگرہ لوک سبھا سیٹ سے امیدوار بنایا اور وہ دونوں مرتبہ منتخب ہوئے ۔سیاسی وجوہات سے انہوں سماجوادی پارٹی بھی چھوڑ دی اور کانگریس میں شامل ہوگئے ۔سال 2009 میں لوک سبھا انتخابات میں کانگریس نے راج ببر کو فیروز آباد سیٹ سے امیدوار بنایا اور انہوں نے سماجوادی لیڈر اکھیلیش یادو کی اہلیہ ڈمپل یادو کو ہرادیا۔کانگریس نے 2014 میں غازی آباد لوک سبھا سیٹ سے جنرل وی کے سنگھ کے خلاف راج ببر کو انتخابی میدان میں اتارا،لیکن وہ الیکشن میں مات کھاگئے ۔اس وقت وہ اتر پردیش کانگریس کے صدر ہیں اور اس بار بھی انتخابی میدان میں ہیں۔مشہوراداکار دھرمیندر کو بی جے پی نے 2004 میں الیکشن میں راجستھان بیکانیر سیٹ سے موقع دیا۔اسی سال کانگریس نے ممبئی لوک سبھا سیٹ سے اداکار گووندا کو اپنا امیدوار بنایا۔اپنی مقبولیت کے دم پر دونوں اداکاروں نے جیت درج کی۔فلمی ستاروں کی مقبولیت کا فائدہ اٹھانے میں سیاسی پارٹیاں کبھی پیچھے نہیں رہیں۔مشہور اداکارہ ہیمامالینی 2004 سے 2009 کی مدت کے دوران بی جے پی کی جانب سے راجیہ کی رکن رہیں۔سال 2014 میں بی جے پی نے ہیما کو متھرا سیٹ سے امیدوار بنایا جہاں انہوں نے راشٹریہ لوک دل کے جینت چودھری کو ہرادیا۔وہ اس بار بھی بی جے پی کے ٹکٹ پر متھرا سے ہی الیکشن لر رہی ہے ۔جنوبی ہندوستانی فلموں سے بالی ووڈ میں قدم رکھنے والی مشہوراداکارہ جیا پردا کو آندھرا پردیش میں تیلگو دیشم پارٹی(ٹی ڈی پی)کے کنوینر این ٹی راماراو نے 1994 میں ریاستی اسمبلی انتخابات کے دوران پارٹی میں شامل ہونے کی دعوت دی،جسے انہوں نے قبول کرلیا۔بعد میں ٹی ڈی پی تقسیم ہوئی اور وہ چندربابو انئیڈو کے خیمے میں چلی گئیں،لیکن مسٹر نائیڈو کے ساتھ اختلافات کی وجہ سے انہوں نے ٹی ڈی پی کو چھوڑ دیا اور سماجوادی پارٹی میں آگئیں۔سماجوادی پارٹی کی جانب سے وہ 2004 اور 2009 کے عام انتخابات میں اترپردیش کی رام پور سیٹ سے منتخب ہوئیں۔بدلے ہوئے حالات میں 2014 میں جیا پردا نے راشٹریہ لوک دل کی جانب سے بجنور سیٹ سے الیکشن لڑا لیکن انہیں ہار کا سامنا کرنا پڑا۔حال میں جیا بی جے پی میں شامل ہوچکی ہیں اور رام پور سے ہی الیکشن لڑ رہی ہیں۔ٹیلی ویژن سیریلوں سے مشہور ہوئیں اداکارہ سمریتی ایرانی کو بی جے پی نے پارٹی میں شامل کیا اور 2004 کے عام انتخابات میں دہلی کے چاندنی چوک لوک سھا علاقے سے الیکشن میں کھڑا کیا،لیکن سمریتی کو یہاں کانگریس لیڈر کپِل سبل نے شکست دی۔اس کے بعد بی جے پی نے سمریتی کو اترپردیش میں کانگریس کے گڑھ امیٹھی سے مسٹر راہل گاندھی کے خلاف کھڑا کیا اور وہاں بھی وہ ہارگئیں۔مودی حکومت میں وہ پہلے انسانی وسائل کی ترقی وزیر رہیں۔کابینہ میں ردوبدل کے بعد انہیں کپڑا وزارت سونپی گئی۔بی جے پی نے انہیں اس بار بھی امیٹھی سے مسٹر گاندھی کے خلاف کھڑا کیا ہے ۔

تبصرے
Loading...