ویڈیو: امشی پورہ شوپیان میں مختصر خونین معرکہ آرائی ، حرکت المجاہدین کا اعلیٰ کمانڈر جاں بحق

سوپور میں احتجاجی ہڑتال اور پُر تشدد مظاہروں کے بیچ جاں بحق جنگجو آبائی علاقے میں سپرد خاک

0 266

سرینگر : جنوبی ضلع شوپیان کے امشی پورہ فورسز اور جنگجوئوں کے مابین اعلیٰ الصبح مختصر خونین معرکہ آرائی میں حرکت المجاہدین سے وابستہ اعلیٰ کمانڈر جاں بحق ہو گیا ہے ۔ جھڑپ میں جنگجو کے جاں بحق ہونے کی خبر پھیلتے ہی سوپور میں مکمل ہڑتال ہوئی جبکہ ضلع انتظامیہ نے سوپور اور شوپیان میں موبائیل انٹر نیٹ خدمات معطل کی ۔ اسی دوران جونہی شوپیان جھڑپ میں سوپور کے جنگجو کے جاں بحق ہونے کی خبر پھیل گئی تو وہاںتمام دکان، کاروباری ادارے اور سکول بند ہوگئے جبکہ سڑکوں سے پبلک ٹرانسپورٹ بھی غائب رہی ۔ ادھر پولیس نے مختصر جھڑپ میں جنگجو کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ مہلوک جنگجو اور اس کے ساتھی کئی کارروائیوں میں ملوث رہے ہیں اور انہوں نے صفا کدل میں سی آر پی ایف بینکرپر گرنیڈ سے حملہ کیا جبکہ صورہ اور پولیس اسٹیشن خانیار پر بھی ہتھ گولے داغے تھے ۔ سی این آئی کو دفاعی ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ امشی پورہ رام نگری شوپیان میں جنگجوئوں کی نقل و حمل کے بعد فوج ، سی آر پی ایف اور ایس او جی شوپیان نے جمعہ کی اعلیٰ صبح سحری سے قبل علاقے کو محاصرے میں لیکر تلاشی کارورائی شروع کی ۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ جونہی فورسز نے علاقے میں تلاشی کارورائی شروع کی تو وہاں موجود جنگجوئوں نے فرار ہونے کی کوشش میں فورسز پر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے جواب میں فورسز نے بھی مورچہ زن ہو کر جوابی کارروائی کی اور طرفین کے مابین کچھ دیر تک گولیوں کا تبادلہ ہوا ۔ ذرائع کے مطابق جونہی مختصر جھڑپ کے بعد گولیوں کا تبادلہ تھم گیا تو جھڑپ کے مقام سے ایک نعش بر آمد ہوئی جس کی شناخت اشفاق احمد صوفی عرف عمر ولد مشتاق احمد ساکنہ ماڈل ٹاون (بی) سوپورکے بطور ہوئی جبکہ اس کے قبضے سے اسلحہ و گولی باردور بھی ضبط کیا گیا ۔ پولیس ترجمان نے علاقے میں جھڑپ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ جاں بحق جنگجو فورسز کو کئی کیسوں میںا نتہائی مطلوب تھا ۔ پولیس ترجمان کی طرف سے موصولہ بیان کے مطابق جنگجوئوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے کے بعد فوج و فورسز نے مشترکہ طورامشی پورہ رام نگری شوپیا ن کے علاقے کو محاصرے میں لیکر وہاں تلاشی کارورائی شروع کی ۔ بیان کے مطابق جونہی علاقے میں تلاشی شروع ہوئی تو جنگجوئوں نے حفاظتی عملے پر اندھا دھند فائرنگ شروع کی۔پولیس کے مطابق سلامتی عملے نے بھی پوزیشن سنبھال کر جوابی کارروائی کا آغاز کیا اور اس طرح سے طرفین کے مابین جھڑپ شروع ہوئی۔پولیس نے کہا کہ کچھ عرصہ تک جاری رہنے والی اس جھڑپ میں ایک جنگجو، جس کی شناخت اشفاق احمد صوفی عرف عمر ولد مشتاق احمد ساکنہ ماڈل ٹاون (بی) سوپورکے بطور ہوئی ہے، جاں بحق ہوگیا۔بیان کے مطابق اشفاق احمد کے خلاف جرائم کی ایک لمبی فہرست موجود ہے۔ ابتدائی طور پر مذکورہ جنگجو حرکت المجاہدین کے ساتھ وابستہ تھا۔ مہلوک جنگجو اور اس کے ساتھی کئی کارروائیوں میں ملوث رہے ہیں اور انہوں نے صفا کدل میں سی آر پی ایف بینکرپر گرنیڈ سے حملہ کیا جبکہ صورہ اور پولیس اسٹیشن خانیار پر بھی ہتھ گولے داغے تھے۔جاں بحق جنگجوعلاقے میں سیکورٹی فورسز پر حملوں اور عام شہریوں کا تشدد کا نشانہ بنانے کی کارروائیوں میں بھی پیش پیش رہ چکا ہے۔ جاں بحق جنگجو پہلے گرفتار ہو چکا تھا اور اس کے بعدوہ ضمانت پر رہا ہوا پھر اس نے سال 2018میں دوبارہ جنگجو تنظیم میں شمولیت اختیار کی۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق عسکریت میں دوبارہ واپسی کے بعد اس نے سیکورٹی فورسز پر حملوں کی منصوبہ بندی کی اور انہیں پایہ تکمیل تک پہنچانے میں اہم رول نبھاتا رہا۔پولیس نے کہا کہ جائے جھڑپ پر سیکورٹی فورسز نے اسلحہ وگولہ بارود اور قابلِ اعتراض مواد برآمد کرکے ضبط کیا ۔ اسی دوران جونہی شوپیان میں سوپور کے جنگجو کے جاں بحق ہونے کی خبر پھیل گی تو سوپور میں تمام دکان، کاروباری ادارے اور سکول بند ہوگئے جبکہ سڑکوں سے پبلک ٹرانسپورٹ بھی غائب ہوگیا۔اسی دوران نوجوانوں کی بڑی تعداد نے سڑکوں پر نکل کر احتجاجی مظاہرے کئے جس دوران کئی مقامات پر احتجاجی مظاہرین اور فورسز کے درمیان پُر تشدد جھڑپیں ہوئی ۔ معلوم ہوا ہے کہ جونہی جاں بحق جنگجو کی نعش آبائی علاقے میں پہنچائی گئی تو وہاں صف ماتم بچھ گئی جبکہ ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے سڑکوں پر نکل کر احتجاجی مظاہرے کئے جس دوران انہوں نے اسلام و آزای کے حق میں نعرہ بازی کی ۔معلوم ہوا ہے کہ جاں بحق جنگجو کو ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں آبائی علاقے میں پُر نم آنکھوں کے ساتھ سپرد خا ک کیا گیا ۔ ( سی این آئی )

تبصرے
Loading...