الیکشن ضابطہ اخلاق کی کھلم کھلا خلاف ورزی ،الیکشن کمیشن بی جے پی کے خلاف کاروائی کریں: سوز

0 72

سرینگر؍17اپریل/سی این ایس سابق مرکزی وزیر پروفیسر سیف الدین سوزؔ نے کہا ہے کہ’’پورے ہندوستان میں یہ احساس ہے کہ الیکشن کمیشن آف انڈیا نے بی جے پی لیڈروں کی طرف سے الیکشن قواعد کی کھلم کھلا خلاف ورزیوں کے خلاف نہ کوئی کاروائی کی اور ناہی زبانی طور اپنی ناراضگی کا اظہار کیا۔ابھی کل تک الیکشن کمیشن آف انڈیا کا یہی رویہ رہا ۔پھر جب سپریم کورٹ الیکشن کمیشن کی مسلسل چشم پوشی سے مجبور ہو گئی تو الیکشن کمیشن آف انڈیا کو ہدایت کی کہ وہ حرکت میں آئے، اُس سے پہلے کسی بھی خلاف ورزی کے معاملے میں الیکشن کمیشن آف انڈیا نے کوئی دلچسپی نہیں دکھائی۔ اُس لحاظ سے 2019ء ؁ کا الیکشن یاد گار رہے گا! یہ سوال عام لوگ پوچھتے ہیں کہ کیا یو پی کا نام نہاد مہنت یوگی ادتیہ ناتھ مسلسل طور الیکشن کے دوران فرقہ پرستی کو کھلم کھلا ہوا نہیں دیتا رہا ہے؟اگر کمیشن کو کوئی دلچسپی ہوتی تو وہ ادتیہ ناتھ کی ساری تقریروں کو سامنے رکھکر اپنی رائے ظاہر کر سکتا تھا۔ ابھی کمیشن نے کل تامل ناڈو میں اپنا کمال دکھایا کہ چُن کر ڈی ایم کے ، کے لیڈر اور ایم پی کانی موزی کے گھر پر جو مرکزی سرکار اور ریاستی سرکار کی ہدایت پر چھاپہ مارا ، تو الیکشن کمیشن آ ف انڈیا اُس کاروائی میں شانہ بشانہ شریک تھا۔ کیا بی جے پی کے ساتھی ،تامل ناڈو کی موجودہ گورنمنٹ میں شامل انا ڈی ایم کے ، کے سبھی لوگ دودھ کے دھلے ہیں؟کیا وزیر اعظم مودی مسلسل فوج اور بالا کوٹ کا ذکرنہیں کرتے ہیں اور اپنی بڑے پن کا راگ نہیں الاپتے رہتے ہیں؟افسوس تو یہ ہے کہ الیکشن کمیشن آف انڈیا اُس کتاب پر ایک نظر بھی نہیں ڈالتا جس میں اُن کے فرائض کی تفصیل ہے ۔جس میں یہ بات بھی درج ہے کہ قانون سے بڑھ کر کوئی شخصیت نہیں ہو سکتی بشمول وزیر اعظم ۔ جہاں تک جموں وکشمیر کا تعلق ہے ، یہاں لوگوں الیکشن کمیشن آف انڈیا سے کوئی توقع نہیں رکھنی چائے کیونکہ ہم نے دیکھاکہ الیکشن کمیشن آف انڈیا این آئی اے (NIA)کی طرف سے ساری کاروائیوں اور ذیادتیوں کو خاموش تماشائی بن کر دیکھتا رہا۔

تبصرے
Loading...