اسلام آباد کے ساتھ باہمی مذاکرات کیلئے تیار لیکن راستہ پاکستان کو ہی طے کرنا ہوگا/راجناتھ سنگھ

کشمیر میں امن و امان خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی

0 96

سرینگر : جموں وکشمیر میں امن وامان خراب کرنے کی کسی بھی کوشش کو ناقابل برداشت قرار دیتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ نے واضح کردیا ہے کہ سرحدیں محفوظ ہیں اور فوج کنٹرول لائن پر پاکستانی جارحیت کا جواب دے رہی ہے ۔اس دوران انہوں نے خبردار کیا کہ اندرون ریاست بھی صورتحال کو قابو میں رکھنے کیلئے فوج اور پولیس کے درمیان تال میل ناگزیر بن گیا ہے ۔سی این آئی مانیٹرنگ کے مطابق لوک سبھا انتخابات میں لکھنو سے بھاری ووٹوں سے جیت حاصل کرنے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے کنٹرول لائن پر پیدا شدہ صورتحال کیلئے پاکستان کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ سرحد پار دراندازی کو یقینی بنانے کیلئے سیز فائر کی بار بار خلاف ورزی کی جارہی ہے اور خفیہ ایجنسیوں نے یہی اطلاع حکومت کو فراہم کی ہیں کہ سیز فائر کی آڑ میں زیادہ سے زیادہ جنگجوؤں کو کشمیر میں داخل کرنے ککوشش کی جارہی ہیں اور اس سلسلے میں پاکستانی فوج کی جانب سے بار بار سیز فائر کی خلاف ورزی کی جارہی ہے ۔تاہم انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیر میں امن وامان خراب کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی اور نہ ہی کسی کو امن وامان خراب کرنے کیلئے کھلی آزادی ملے گی تاہم انہوں نے کہا کہ باہمی طور پر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان مذاکرات ہوسکتے ہیں لیکن اس دوران پاکستان کو یہ طے کرنا ہوگا کہ باہمی طور پر کس انداز میں مذاکرات کیلئے تیار ہوجاتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ مذاکرات کا دروازہ کھلا رہے گا لیکن اس کیلئے ایک طریقہ کار طے کرنا ہوگا تاکہ یہ دیکھا جائے کہ باہمی طور پر جن مسائل کو حل کرنا ہے اس سلسلے میں ہم نے کون سا راستہ استعمال کرنا ہوگا ۔پاکستان کے ساتھ تعلقات پر انہوں نے کہاکہ بھارت ہی نہیں ساری دنیا جانتی ہیں کہ دہشت گردی کون پھیلا رہا ہے ۔دہشت گردی کو ہم مل کر ہی ختم کر سکتے ہیں ،اس کیلئے پاک حکومت سے بھی اپیل کی گئی ہے ۔آئی ایس آئی ایس پر مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ ملک دہشت گردی ختم کنے کیلئے جو بھی ضروری ہوگا وہ حکومت کر رہی ہے ۔

تبصرے
Loading...